سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 206 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 206

ختم ہوئی جو تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی کے لحاظ سے سارے ہندوستان کے لیے آخری تاریخ ہے۔اور جس کے بارے میں میں بار بار اور متواتر اڑھائی سال سے اعلان کر رہا تھا خدا تعالیٰ کی قدرت کا یہ کتنا بڑا نشان ہے۔صوفیا۔لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ بندہ کی زبان اور ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَالعِنَ اللَّهَ رھی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بدر کے موقعہ پر جب تو نے مٹھی بھر کر کنکر پھینکے تھے بظاہر تو وہ تونے ہی دُعائیہ رنگ میں پھینکے تھے لیکن ہم نے تیرے ہاتھ کو اپنا ہاتھ بنا لیا اور اسے کفار کی تباہی کا موجب بنا دیا۔۔۔۔۔تواللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہ سلوک رہا ہے کہ وہ ان کے ہاتھ کو اپنا ہا تھ ان کی زبان کو اپنی زبان بنالیتا ہے۔میں نے متواتر بیان کیا تھا کہ میں جو کہتا ہوں کہ جنگ ۱۹۳۵ء کے شروع میں ختم ہو جائے گی میں یہ کسی الہام کی بنا پر نہیں کہتا بلکہ میرے استدلال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ چونکہ تحریک جدید کا آخری سال چندوں کی ادائیگی کے کے لحاظ سے شاہ کے شروع میں یعنی اپریل میں جا کر ختم ہوتا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ جنگ ۱۹۳۵ء کے شروع یعنی اپریل میں ختم ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے میری اس بات کو لفظاً لفظاً پورا کیا اور نہ صرف سال اور مہینہ کے لحاظ سے بلکہ تاریخ اور دن نے لحاظ سے بھی یہ بات لفظاً لفظاً پوری ہوتی۔الحمد لله" (الفضل ۴ ارمنی ۱۹۳۵) مذکورہ بالا واقعات و حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ کا آغازہ اور خاتمہ بلکہ اس جنگ کے دوران ہونے والے اہم واقعات متعدد خُدائی نشانوں کے ظہور اور اضافہ ایمان کا باعث ہوتے۔ایٹمٹی تباہی پر تبصرہ :- جیسا کہ دنیا جانتی ہے اس جنگ کا خاتمہ اس خوفناک ترین ایجاد کے استعمال کے نتیجہ مں عمل میں آیا تھا جسے ایٹم بم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جاپان پر ایسے دو بہم ہی گرائے گئے تھے کہ انکی قوت مدافعت جواب دے گئی اور اتحادیوں نے اس عظیم جنگ میں فتح حاصل کی۔حضور جنگ کے آغاز سے ہی اس تباہی کے جلد خاتمہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے حضور اتحادیوں کی فتح کو دنیا کے لیے کہ نقصان کا باعث سمجھتے تھے مگر جن حالات میں اتحادیوں کو فتح حاصل ہوئی آپ اس پر خوش نہیں ہوتے اور رحمۃ للعالمین کے اس پیچھے خادم نے سب سے پہلے ایٹمی حملہ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا : " یہ ایک ایسی تباہی ہے جو جنگی نقطہ نگاہ سے خواہ تسلی کے قابل سمجھی جائے لیکن جہانتک