سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 124
۱۲۴ یعنی تیرے لیے شام کے ابدال اور عرب کے صلحا - دعائیں کرتے ہیں۔یہ نشان تمہارے وجود سے پورا ہو رہا ہے۔مرمتی کو حضور بیروت کی جماعت کی درخواست پر شامی مخلصین کی مشایعت میں بیروت کے لیے روانہ ہوئے۔لبنان کی جماعت کا ایک وفد مولنا شیخ نور احمد صاحب میر مبشر بلاد اسلامیہ کی قیادت میں "عالیہ" سے کوئی ہار ہیں آگے آکر حضور کے لیے چشم براہ تھا۔عالیہ سے حضور اس قافلہ کے ہمراہ بیروت تشریف لے گئے۔زیورچ جانے کے لیے بیروت ائرپورٹ پر جب حضور کار سے اُترنے لگے تو ڈرائیور نے تیزی سے اپنا دروازہ کھولا۔حضور کا ہا تھ اس پر تھا۔اس نے بے احتیاطی کی اور جلدی سے حضور کا دروازہ کھولنے کے لیے اسے بند کر دیا۔حضور کی انگلی اس میں آگئی۔حضور کی بے چینی کے ساتھ جماعت بے چین ہو گئی۔ڈاکٹر مرزا منورا حمد صاحب نے بیٹی کی۔خدا تعالے کا شکر ہے کہ زیادہ زخم نہ آیا۔ڈرائیور گو احمدی نہیں تھا ، لیکن عقیدت مندوں کے اجتماع سے متاثر تھا اور سخت نادم تھا کہ اس کی بے احتیاطی سے حضور کی انگلی پر زخم آیا حضور ایر پورٹ کیے ہال میں تشریف فرما تھے۔اور زخمی اُنگلی والا ہاتھ سلنگ میں تھا۔اس ڈرائیور نے حضور کی نفرت میں حاضری کی اجازت چاہی اور موقعہ پاکر بڑھ کر حضور کے زخمی ہاتھ پر بوسہ دیکر اپنی ندامت کا اظہار کیا۔) الفضل ۲۲ مئی ۹۵۵لة ) حضور نے زیورچ پہنچ کر حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے نام ایک تارمیں اپنے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا : " ہم خدا کے فضل سے اہل و عیال کے ساتھ بخریت زیورچ پہنچ گئے ہیں۔جنیوا سے آگے تمام انتظامات شیخ ناصر احمد صاحب (مبلغ سلسلہ) نے کتے تھے جوکہ بہت عمدہ تھے شروع میں مکان میں تازہ روغن ہونے کی وجہ سے کچھ تکلیف ہوئی لیکن چند گھنٹے کے بعد یہ تکلیف رفع ہو گئی۔بیروت میں بھی تمام انتظامات اچھے تھے۔دمشق کے صورت ہمیں رخصت کرنے کے لیے بیروت آتے ہوتے تھے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب روم تک ہمارے ساتھ آتے اور پھر وہاں سے ہیگ (ہالینڈ ) روانہ ہو گئے۔ان کا ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک نعمت ثابت ہوا۔اللہ تعالیٰ تمام ان دوستوں پر فضل فرما دے جنہوں نے اس سفر کے تعلق میں مدد کی ہے۔اب عنقریب یہاں ڈاکٹروں سے مشورہ کیا جائے گا۔احباب خاص دُعا تیں جاری رکھیں۔کیونکہ یہ میرے علاج کی کوششوں کا