سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 125
۱۲۵ آخری مرحلہ ہے۔" الفضل ۱۲ر منتی ۱۹۵۵ بیماری اور کمزوری کے با وجود جماعت سے محبت اور قلبی تعلق کی وجہ سے حضور نے عید مبارک اور دعا کا مندرجہ ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا : }) پاکستان ، ہندوستان اور دنیا کے تمام احمدی بھائیوں کو عید مبارک ہو۔میں ان سب کی مشکلات اور تکالیف کے دُور ہونے اور روحانی ترقی کے لیے دُعا کرتا ہوں۔) الفضل ۲۲ متی ۹۵۵ اس سفر میں حضور نے متعد دمشہور ڈاکٹروں سے مشورہ لیا تا ہم اصل علاج ڈاکٹر پروفیسر روسیو PROSSIER نے کیا۔یہ وہ مشہور معالج ہیں جنہوں نے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد کا علاج بھی کیا تھا۔ان کی ہدایت و نگرانی میں حضور کے سر کے مختلف ایکسرے لیے گئے۔ڈاکٹر نے پوری توجہ کے ساتھ کیس ہسٹری تیار کی۔ان کی توجہ اور طریق علاج سے حضور بہت مطمئن ہوئے۔ایک ہو میو پیتھ ڈاکٹر گیزل GISEL سے بھی مشورہ لیا گیا۔ان کی ہشاش بشاش طبیعت اور طریق علاج کو حضور نے پسند فرمایا اور ان سے ہو میو پیتھی کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔مشہور معالج ڈاکٹر بوسیو 80510 سے بھی مشورہ لیا گیا۔اس کے متعلق حضور نے اپنے ایک پیغام میں ارشاد فرمایا :- " خدا کا شکر ہے تمام طبی ٹیسٹ مکمل ہو گئے ہیں اور بیماری متعین کیر لی گتی ہے۔مشہور معالج ڈاکٹر بوسیو نے رپورٹوں کا مطالعہ کرنے کے بعد آج اپنی تشخیص ہے مطلع کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خون اور شریانیں اور باقی ہر چیز معمول کے مطابق پائی گئی ہے لیکن یہ کہ مجھے بہت زیادہ آرام کرنا چاہیئے اور اگر ممکن ہو سکے تو مجھے یہاں کچھ زیادہ عرصہ قیام کرنا چاہیئے۔پھر یہ کہ میری تقریریں مختصر ہونی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ گذشتہ سال حملہ کے نتیجہ میں جو زخم لگا تھا وہ خطرناک تھا اور یہ کہ سرجن کی رائے درست نہیں تھی ایکسرے فوٹو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چاقو کی نوک گردن میں ٹوٹ گئی تھی جو اب بھی اندر موجود ہے اور ریڑھ کی ہڈی SPINAL CORD SPINA L کے قریب ہے۔خدا کا شکر ہے کہ جن خطرناک معاتنوں سے بچنے کی کوشش کی جار ہی تھی اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔میرا کمل آرام دوستوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر دوست میری پوری طرح مد کریں تو ڈاکٹروں کی