سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 123
۱۲۳ تھا۔پر ایمان لاویں گئے۔یہ ہرگز ممکن نہیں۔اولوالعزم فضل عمر اس چیلنج پر خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا کہ میں اب قادیان واپس جاتے ہی یہاں مبلغ بھیج دوں گا۔اور انشاء اللہ ! یہاں لوگ احمدیت کو قبول کریں گے۔اللہ ! اللہ ! کس توکل علی اللہ اور کس عزم کا اظہار تھا ------ اب تقریباً ۳۱ سال بعد وہی اولو العزم اور متوکل انسان دشتی میں دارد ر ہوتا ہے اور کتنے عاشق خدام اس کی ایک جھلک کے لیے اس کے ہاتھ کو بوسہ دینے اور پیشانی پر لگانے کے لیے اس کے روح پرور کلمات سننے کے لیے اس کی امامت میں نماز ادا کرنے کے لیے اس سے تعارف کا فخر حاصل کرنے کے لیے لیے تاب ہیں۔کتنے اس کے در کی پاسبانی میں فخر و عزت محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔کتنے اس کی دُعاؤں کے حصول کی تڑپ رکھتے ہیں۔یہ نظارے دیکھنے کی آج سعادت حاصل ہوئی ہے۔پس میں خدائے کریم کا شکر کرتا ہوں۔آج حضور جب نماز ظہر کے لیے تشریف لاتے حضور نے نماز سے قبل ہی سیدہ نجمیه بنت سیٹھ حسن الجابی مرحوم کا نکاح سید سعید القبانی کے ساتھ پڑھنے کی منظوری عطا فرمائی۔کیونکہ یہاں کے قانون کے مطابق محکمہ شرعیہ کا کاتب رجبرات میں تقریب نکاح کا اندراج کرتا ہے اور وہ منتظر تھا۔چنانچہ حضور نے سیدہ نجمیہ کا نکاح سید القبانی کے ساتھ ایک ہزار لیرا ------ پر پڑھا۔اور دعا فرمائی۔اللہ تعالیٰ جانبین کے لیے مبارک و با برکت کرے۔یہ پہلا نکاح ہے جو حضور نے ایک شامی احمدی مرد کا ایک شامی احمدی بی بی سے پڑھا یا سیدہ نجمہ سید سلیم من الحجابی کی جو ربوہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں ہمشیرہ ہیں۔نماز کے بعد حضور نے مجلس میں تشریف رکھی اور شامی احباب کے ساتھ بلا تقف عربی زبان میں گفتگو فرماتے رہے۔مختصر کوالف سفر : الفضل ۱۵ مئی ۱۹۵۵ )۔۔۔چھ مئی کو حضور نے فصیح و بلیغ عربی زبان میں ایک مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے آج سے قریباً نصف صدی قبل جب کہ آپ میں سے اکثرا بھی پیدا بھی نہیں ہوتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الماما بتا یا کہ يَدعونَ لَكَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَصُلَحَاءُ الْعَرَبِ