سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 32
سے رکھ دیا۔پھر آپ کے سردار حضرت صاحب با وجود اس نوجوانی کے وہ روشن ضمیری رکھتے ہیں کہ میں نے کئی مولویوں اور مقرروں کے وعظ سنے مگر یہ اثر یہ جادو بیانی ان میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔میں جب آپ کی صحبت میں بیٹھا تو کئی اعتراضات لے کر بیٹھا مگر بغیر اس کے کہ میں انہیں زبان پر لاؤں حضرت صاحب نے ایسی تقریر شروع کی کہ وہ خود بخود دُور ہو گئے۔باوجود عیسائی ہونے کے پیغمبر عرب کی اب مطلقاً نفرت میرے دل میں نہیں بلکہ بہت بڑی عزت ہو گئی۔قرآن مجید کو پہلے لغو کتاب سمجھتا تھا اب میں اسے اعلیٰ کتاب سمجھتا ہوں۔میرے دل میں ایک جنگ شروع ہو گئی ہے لیکں نے جو کچھ حضرت صاحب نے فرمایا سب نوٹ کر لیا ہے اب میں اطمینان سے اس پر غور کروں گا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ میرے حق میں دعا کریں گے کہ جو خدا کے نزدیک راہِ راست ہے وہ مجھے دکھائے میں پھر اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کے بیان میں ایک تبادو کا اثر ہے اور نہایت اعلیٰ معلومات رکھتے ہیں اور میں بہت شکر گزار ہوں۔والفضل ۲۳ مارچ ۱۹۱۵) اسی طرح ماسٹر عبد الرحمن صاحب خاکی راولپنڈی کی ایک روایت بھی پڑھنے کے لائق ہے جو مناظرہ کے وقت آپ کی حاضر جوابی اور بائیبل سے گہری واقفیت کے موضوع پر عمدہ روشنی ڈالتی ہے۔ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ :۔ایک عیسائی جس نے 12 سال تک عیسائیت کی تبلیغ کی تھی، قادیان میں آیا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے گفتگو شروع کی۔حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی اس مجلس میں موجود تھے۔گفتگو کے دوران حضور نے کسی بات پر اگر کا لفظ استعمال فرمایا۔یعنی فرمایا کہ اگر ایسا ہو تو ایسا ہوسکتا ہے۔اس پر پادری نے کہا کہ اگر والی بات تو کمزور ہوتی ہے