سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 33
سوس اس پر حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السّلام نے فرمایا ہے کہ اگر میں چاہوں تو دس ہزار فرشتے میری مدد کو آسکتے ہیں۔کیا حضرت مسیح علیہ السّلام کی بات کمزور تھی ؟ یہ بات سُن کر وہ پادری ہنس پڑا۔اور لاجواب ہو گیا۔یہ خلافت ثانیہ کے بالکل ابتدائی زمانے کی بات ہے۔ایسی ملاقاتوں کا بعض اوقات فوری نتیجہ ظاہر ہوتا۔چنانچہ پیشاور کے ایک قابل پادری عبد الخالق صاحب جو قبل ازیں اسلام سے ارتداد کر کے پادری بن چکے تھے اور انہیں بائیبل پر اتنا عبور تھا کہ وہ فخریہ کہا کرتے تھے کہ میرے علم کا پادری شاذ و نادر ہی کوئی او ہلے گا۔مناظرے کے ماہر اور منطقی داؤ پیچ سے خوب واقف ، اس پادری کی زندگی کا چیپ مشغلہ یہ تھا کہ بڑے بڑے مولویوں کو منطقی داؤ پیچ سے شکست فاش دے کر اہل اسلام پر اپنی برتری ثابت کرتے۔یہ پادری صاحب شوق مبارزت لئے اپریل کے شروع میں قادیان آ نکلے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے تبادلہ خیالات کی خواہش ظاہر کی خیال تو ان کا یہ تھا کہ ایک نوجوان رہنما ہے ، عیسائیت کا تو سوال ہی کیا خود اپنے دینی علوم میں بھی سند یافتہ نہیں، چند ہی اعتراضات میں شکست فاش دے کر اپنا نام بلند کروں گا۔لیکن اللہ تعالے کو کچھ اور ہی منظور تھا۔بحث اس حال پر ختم ہوئی کہ اُن کا ذہن اسلام قبول کہ چکا تھا اور دل مطمئن ہو چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیح موعود یقین کرتے ہوئے جناب سابق پادری صاحب نے حضرت مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کا عہد سبعیت کیا۔یہ پادری صاحب جن کا نام عبد الخالق تھا۔کسی وقتی اور ہنگامی جذبہ کے تحت از سر نو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ حضرت خلیفہ اسیح کے خدا داد علم میں کچھ ایسی قوت قدسیہ تھی کہ وہ ان کے عقل اور دل دونوں کو مسلمان کو گئی۔مکرم پادری عبد الخالق صاحب بڑی عمر با کیر آج سے چند سال قبل فوت ہوئے۔راقم الحروف نے خود ان کو دیکھا ہے۔ان سے بائیبل پڑھی ہے۔اور عیسائیت کے بارہ میں معلومات حاصل کی ہیں۔وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے اور ان کے دل پر آپ کے علم اور تقوی کا ایسا رعب تھا کہ ہمیشہ غیر معمولی عجز و انکسار اور احترام کے ساتھ آپ کا ذکر کیا کرتے تھے۔