سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 31
معقول گفتگو اور ایسی مدتل تقریرہ کسی مسلمان کے منہ سے نہ نہیں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی عیسائی مذہب سے گہری علمی واقفیت صرف احمدیوں پر یہی اللہ انداز نہیں ہوتی تھی بلکہ خود تجربہ کار عیسائی مشاد بھی حضور کی علمی قابلیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک مسیحی دوست نے جو قادیان ٹھر کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے مذہبی تبادلہ خیالات کر رہے تھے اپنا تاثر نمائندہ الفضل سے ان الفاظ میں بیان کیا : میرا زمانہ تجربہ ۲۵ سال کا ہے اور اس شخص (حضرت خلیفہ سیج الثانی کی عمر ۲۵ سال ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مسیحی مذہب کا علم ان کو مجھ سے زیادہ ہے۔میں نے بہت وعظ اور تقاریر سنی ہیں مگر یہ حالت نہیں دیکھی یہ تو خدا داد قابلیت ہے۔الفضل در مارچ (واع) یه تأثر بیان کرنے کے چند روز بعد جب ان کو حضور سے گفت وشنید اور صحبت سے استفادہ کرنے کا مزید موقع ملا۔تو ان کی حالت میں ایک غیر معمولی تبدیلی واقع ہوگئی اور ایک دن اپنی قلبی کیفیت کا اظہار قادیان کی ایک مجلس میں ان الفاظ میں کیا :- میں نے عیسائیوں کی اعلیٰ سوسائٹی میں تربیت پائی ہے بہت سے ملکوں میں پھرا ہوں مگر مجھے اس جماعت کو دیکھ کر رشک آتا ہے کہ کاش یہ روحانیت عیسائیوں میں ہوتی۔بڑے تو بڑے میں نے یہاں کے بچوں میں بھی وہ شائستگی دیکھی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔آپ لوگوں کا شوق عبادت آپ کی مہمان نوازی آپ کی تواضع دیکھ کر مجھے یسعیاہ کا وہ باب یاد آتا ہے جس میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق لکھا ہے کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پئیں گے اور ناگ بچوں سے کھیلیں گے۔میں نے یہاں دیکھا کہ سرحدی جو بہت آزاد اور اکھڑ قوم ہے ان کے ایک فرد نے اندھیرے میں میرا جوتا تلاش کر کے میرے آگے نہایت تواضع اه تاریخ احمدیت جلد تم ماشا