سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 337

آپ نے عورت کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔چنانچہ اس موضوع پر آپ کے ارشادات میں ایک دلکش توازن نظر آتا ہے جو اسلامی تعلیم کے مزاج کے عین مطابق ہے۔آپ نے احمدی مستورات کو ایک مثبت پروگرام دیا۔تاکہ اُن کی توجہات کا رخ تعمیری مشاغل کی طرف پھر جائے اور اُنھیں یہ احساس دلایا کہ وہ معاشرہ کا ایک اور لازمی جزو ہیں اور قومی تعمیر کے عظیم منصوبوں میں اُن کا ایک مخصوص مقام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مشرقی عورت قومی کاموں میں حصہ نہ لینے کی بناء پر احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار ہو چکی تھی جس کے نتیجہ میں بہت سے غلط رجحانات پیدا ہو رہے تھے۔اور آزادی کا مطلب محض یہ لیا جانے لگا تھا کہ ہر قسم کی پابندیوں سے بغاوت کرتے ہوئے عورت باہر گلیوں اور بازاروں میں نکل آئے۔اور مردوں کے شانہ بشانہ ہر وہ کام کرنے لگے جس سے قبل انہیں وہ محروم کی جارہی تھی۔اس بے محابا اور غیر محدد آزادی کے نتیجہ میں بہت سی معاشی اور تمدنی برائیاں جنم لینے لگی تھیں اور مغربی تہذیری کا وہ پہلو سوسائٹی کے ایک ایسے حصہ پر غالب آ رہا تھا جس میں آزاد می اور بلئے ہ روی ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔اس صورت حال کا مقابلہ عملاً صرف اسی طریق سے ہو سکتا تھا کہ عورتوں میں تعمیری کاموں کا ذوق پیدا کیا جائے۔اور انہیں اس دائمی اور سیچی لذت سے آشنا کیا جائے جو محض نیکی اور خدمت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔پس آپ ہمیشہ عورتوں کے لئے خدمت اور قربانی کی نئی راہیں متعین کرتے رہے اور اپنے پر جوش اور ولولہ خیز خطابات سے ان کے دلوں میں خدمت کی ایسی لگن پیدا کر دی جس کی نظیر اس زمانہ کی کسی دوسری تنظیم میں نظر نہیں آتی۔آپ کی اس عظیم اور حکیمانہ رہنمائی کے نتیجہ میں احمدی مستورات نے میدان عمل میں ایسے ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے جو تاریخ احمدیت کے آسمان پر ہمیشہ روشن ستاری کی طرح چکتے رہیں گئے۔احمدی عورت میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اس کا مقام محض گھر کی چار دیواری نہیں بلکہ اسلام اُسے قومی خدمت کے ہر میدان کی طرف بلاتا ہے