سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 336

نظریات کی بحث پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ عملاً احمدی مستورات کو اس راہ عمل پر گامزن بھی کر دیا جو اسلامی تعلیم کی روشنی میں آپ نے ان کے لئے تجویز کی۔آپ آزادی کے نئے رجحانات اور اس ضمن میں نئی تحریکات سے متاثر ہوئے بغیر محض اس امر کی لگن رکھتے تھے کہ اسلام نے عورت کا جو مقام منفرد فرمایا ہے اس کو اُجاگر کیا جائے آپ یہ یقین رکھتے تھے کہ نہ صرف عورت کی حقیقی خوشی اور طمانیت قلب کا مداراس تعلیم پر عمل پیرا ہونے میں ہے بلکہ بحیثیت مجموعی انسان کی خوشیوں اور مسرتوں کا انحصار بھی اِس امر پر ہے کہ انسانی تمدن میں عورت وہ کردار ادا کرے جس کا قرآن کریم اس سے تقاضا کرتا ہے۔اس مسئلہ میں آپ کی طرز فکر اور طرز عمل ان دوسرے مذہبی اور سیاسی پہناؤں سے بالکل مختلف تھی جو یا تو مغربیت سے مغلوب ہو کر عورت کی بے سروپا آزادی کے نعرے بلند کرنے لگے تھے اور یا قدامت پسندی کی پناہ گاہوں میں قلعہ بند ہو کر مذہب کے نام پر عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے پر مصر تھے۔آپ نے جب اس بارے میں لب کشائی کی تو اسلامی ضابطۂ اخلاق اور مذہبی قدروں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے عورت کے حقوق و فرائض کو متعین کیا۔آپ نے مغربی تعلیم کا رعب قبول نہیں کیا۔جدید مغربی نظریات کے مقابل پر آپ کا اندازہ فکر تمر نہ آئے ان کے گھر تک رعب وقبال“ کی تصویر تھا۔آپ نے جب بھی مغربی رجحانات کے مقابل پر اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی اس میں کہیں بھی معذرت کا رنگ نظر نہیں آتا بلکہ ایک نمایاں احساس فوقیت پایا جاتا ہے اور آپ ہمیشہ اس یقین اور ایمان سے پر نظر آتے ہیں کہ جدید مغربی رحجانا آزادی کے نام پر عورت کے حقوق کی سجالی سے زیادہ اس کی ہلاکت کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔دوسری طرف مشرقی تصورات اور قدامت پسند رحجانات سے بھی آپ ہرگز متاثر نظر نہیں آتے۔مشرقی تصورات کو آپ نے مذہب کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا اور جہاں جہاں بھی یہ دیکھا کہ قومی اور ملکی رواج کے نتیجہ میں عورت کے وه حقوق تلف کئے جارہے ہیں جو نشر آن اُسے دیتا ہے تو بڑی مجرات اور پامردی نے ساتھ اُن کی بحالی کی کوشش کی۔