سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 338
مراسم سرا اور وہ محض مردوں کے پیچھے چلنے کے لئے نہیں بنائی گئی بلکہ اگر وہ چاہے تو نیکی کی دوڑ میں مردوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ان تمام امور کو آپ نے کس طرح سر انجام دیا یہ ایک دلچسپ اور طویل حکایت ہے۔جو آپ کے باون سالہ دور خلافت میں ورق ورق پر پھیلی ہوئی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ حتی المقدور اختصار کے ساتھ آپ کے نظریات اور کوششوں کا ایک ایسا جامع مرقع پیش کر سکیں جس میں کوئی قابل ذکر امر نظر اندازہ نہ ہو۔عورتوں کے حقوق کی حفاظت اسلامی سوسائٹی میں عورت کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں آپ نے ہمیشہ ہر جہت سے کوشش فرمائی اور کوئی پہلو نظر انداز نہ ہونے دیا۔بدقسمتی سے ہندوستان کی قومی روایات کے نتیجہ میں مسلمان عورت اپنے بہت سے اسلامی حقوق سے محروم ہو چکی تھی اور بحیثیت بیوی بھی اس کے جذبات اور حقوق کو عموما گھروں میں پامال کیا جاتا تھا۔چونکہ جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والے افراد شروع میں اسی سوسائٹی سے نکل کر آتے تھے ، اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو ان کی تربیت کرنے اور غلط رسوم سے آزاد کرانے میں غیر معمولی جدوجہد کرنی پڑی اور بار بار نصائح اور انتظامی اقدامات کے ذریعہ آپ نے اُنہیں عورت کے حقوق کی ادائیگی کی عادت ڈالی تاہم یہ مسئلہ آج بھی قابل توجہ ہے اور مسلسل کاوش کا محتاج ہے۔عورت کے حقوق وراثت کی بحالی ہندوستانی معاشرہ کی رو سے عورت کو جائیداد کے ورثے سے عام طور پر محروم کر دیا جاتا تھا اور چونکہ مغربی روایات بھی اس رسم کو تقویت دے رہی تھیں۔اس لئے اس پہلو سے جماعت کی تربیت پر آپ نے خاص زور دیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔سلسلہ کو قائم ہوئے پچاس سال ہوچکے ہیں۔کیا ہماری جماعت کے تمام لوگ لڑکیوں کو ترکہ میں سے اُن کا حق دیتے ہیں ؟ ہماری جماعت میں اسی فیصدی پنجاب کے لوگ زمیندار ہیں جن کے