سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 335

اسلامی معاشر میں غور کو اسکا مقام دلوانے کی جد جہد انسانی تمدن اور سوسائٹی میں عورت کا مقام ایک ایسا اہم سوالی ہے جو دن بدن زیادہ سنجیدگی اور اہمیت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے اور بعض ترقی یافتہ ملکوں میں توسیع پیمانے پر عورتوں کی آزادی کی مہم کے نام پر بڑی مضبوط تنظیمیں قائم ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انسانی تہذیب کے آغاز ہی سے عورت مظلوم رہی ہے اور کسی نہ کسی حیثیت سے مرد نے ہمیشہ اُسے غلام بنائے رکھا ہے۔لا مذہب طبقہ کی طرف سے یہ وسوسہ بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ مذہب نے بیجا طور پر مرد کے ہاتھ مضبوط کئے اور عورت کو مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔اس خیال کے حامی اس مفروضے کی بناء پر یہ نظر یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ در اصل عورت کے بارہ میں مذہبی تعلیم خدا کی طرف سے نہیں بلکہ محض عورت پر اپنی حکومت مستحکم کرنے کے لئے جاہر مردوں کی ایجا د ہے۔ان نظریات اور خیالات کے پیش نظر اسلام میں عورت کے صحیح مقام کا مسئلہ اس زمانہ میں غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ پر اسلامی تعلیمات کے صحیح نقوش اُجاگر کرنے کی دُہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔بحیثیت امام جماعت احمدیہ اور خلیفہ آکسیج کے یہ ایک مستقل فرض منصبی تھا جو دوسرے خلفاء راشدین کی طرح آپ کو بھی سونیا گیا۔اس کے علاوہ بحیثیت مصلح موعود دنیا پر اسلامی تعلیمات کی برتری اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر کرنا بھی آپ کا ایک اہم مشن تھا۔اس لحاظ سے اسلام میں عورت کے صحیح مقام کو واضح کرنا اور اسلامی معاشرہ میں اس کی عملی تصویر اتاریتے کا کام آپ کے اولین فرائض میں داخل تھا۔جب ہم تفصیلاً آپ کی زندگی کے حالا کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس فریضہ کو بھی دیگر فرائض کی طرح نہایت احس رنگ میں انجام دیا۔اسلامی سوسائٹی میں عورت کے صحیح مقام ، حقوق اور فرائض کے مسئلہ پر آپ نے اپنی مختلف تقاریر اور تحریرات میں ہر پہلو سے روشنی ڈالی ہے اور محض