سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 290
۲۹۰ کیونکہ کسی ملک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرت آبادی اُسے اس ملک کی حکومت کا حقدار نہیں بنا دیتی۔اور یہ اصول کبھی بھی سیاست میں تسلیم نہیں کیا گیا یا ہے بعد ازاں آپ نے مسلمانوں کے آئندہ لائحہ عمل کے متعلق حسب ذیل قیمتی مشورے دیئے۔اس سوال کے جواب میں کہ اگر اتحادی اس معاہدہ کو نرم نہ کریں، تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیئے۔مختلف آراء پیشیں کی گئی ہیں۔بعض نے ہجرت کی تجویز پیش کی ہے۔بعض نے جہادِ عام کو پسند کیا ہے بعض نے قطع تعلقی کی پالیسی کو سراہا ہے مگر میرے نزدیک این سب تجاویز میں سے ایک تجویز بھی درست نہیں اور نہ قابل عمل ہے۔ہندوستان کی سات کروڑ آبادی ہندوستان کو چھوڑ کر سر نہیں جاسکتی اور نہ اس کے باہر جانے کی کوئی غرض اور فائدہ دوسری تجویزہ جہاد کی ہے۔جہاد اس ملک میں رہ کر جائز نہیں۔۔۔ہمیں سب سے زیادہ اپنا مذہب عزیز ہونا چاہیئے۔اگر ہم تمام دنیا کی حکومت کے لئے بھی اپنا مذہب قربان کر دیتے ہیں تو ہم گھاٹے میں رہیں گے۔پس حکومت برطانیہ کے زیر سایہ رہتے ہوئے اس کی حفاظت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یا اس کے متعلق تدابیر سوچنا ایک مسلمان کے لئے جو اپنے مذہب کی کچھ بھی قدر کرتا ہے ناجائز ہے اور اسلام کی عظمت کرنے والا مسلم اس تجویز پر بھی عمل نہیں کر سکتا۔اگر کہا جاوے کہ باہر جا کر پھر جہاد کریں تو اول تو اس سوال کے ساتھ پھر ہجرت کا سوال آجاوے گا جسے میں پہلے ناجائز اور نا ممکن ثابت کر چکا ہوں۔دوم جہاد کے لئے یہ شرط ہے کہ اس حکومت سے کیا جاوے جو اسلام کو مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ کرتی ہے اور ترکوں سے جنگ کرنے میں اتحادیوں نے ابتداء نہیں ر اخبار الفضل قادیان در جون ۶۱۹۳۰ م۔