سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 291

۲۹۱ کی۔نہ اس جنگ کی وجہ اسلام کو مٹانا تھا۔پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جاوے کہ اس جنگ کی ابتداء اتحادیوں کی طرف سے ہوئی ہے۔اور پھر یہ بھی کہ اتحادیوں نے ترکوں سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ ان کو جیر اسیمی بنا لیں جہاد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے جو برطانیہ کی حکومت کے نیچے رہتے ہیں جائز نہیں ہو سکتا۔اگر سب مسلمان اس تجویز پر عمل کرنے لگیں تب بھی وہ گورنمنٹ پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے کیونکہ اس ملک کی آبادی کا صرف چوتھا حصہ مسلمان ہے ہے ہندو ہیں اور قریبا چالیس لاکھ سیمی ہیں پس اگر گورنمنٹ کو اس کے خطاب واپس کر دیئے جائیں تو اس سے اس کا کوئی نقصان نہیں اور اگر اس کی ملازمت سے علیحدگی کی جاوے تو ہندوستان کی سیم آبادی اُن کی جگہیں پیر کرنے کے لئے تیار ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ہند و سر بر آوردہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے کے لئے آمادہ ہیں۔لیکن اس تجویزہ کی مخالفت ہندوؤں میں بہت زیادہ ہے اور یقینا پانچ فیصدی ہندو بھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گے۔اگر مسلمان وکلاء اپنا کام چھوڑ دیں گے۔تو خود مسلمان بھی اپنی داد رسی کے لئے ہندو وکلاء کی خدمات کو حاصل کر لیں گے۔اور وہ شوق سے ان کے مقدمات لیں گے اور اگر مسلمان حج استعفا دے دیں گے تو ہندو امیدوار فورا ان کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔اگر فوجی مسلمان استعفا دے دیں گے تو علاوہ اس کے کہ وہ فوجی قواعد کی خلاف ورزی کر کے سزا پائیں گے ان کا مستعفی ہو جانا ایسا مؤثر نہ ہوگا۔کیونکہ ہندو قوم اب فوجی خدمات کی اہمیت سے کافی طور پر واقف ہو چکی ہے اور وہ اپنے قدیم ملک کو ہلا حفاظت چھوڑنے پر کبھی رضا مند نہ ہو گی۔غرض ہر ملازمت کے لئے دوسری اقوام کے لوگ نہ صرف مل جائیں گے بلکہ شوق سے