سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 289

۲۸۹ کر دنیا جس میں کثیر حصہ آبادی مسلمان ہے اور جو یہود کے لئے ایک ہی جائے پینہ بھی کیا اس مجرم کے سبب سے ہے کہ انہوں نے کیوں ہوں کو اس وقت پسند دی جبکہ سیچی حکومتیں ان کو اپنے گھروں اور اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر رہی تھیں۔یہی حال لبنان کا ہے اس کو فرانس کے زیر اقتدار دنیا بالکل کوئی سبب نہیں رکھتا اور آرمینیا کا آزاد کرنا بھی بے سبب ہے۔کیونکہ آرمینیا کا جائے وقوع ایسے علاقہ میں ہے جس کے چاروں طرف ترک آباد ہیں۔اور ان کی الگ حکومت بنانے سے یہ مطلب ہے کہ ترک قوم آپس میں اتحاد نہ کر سکے۔اور روسی ترکستان کے لوگ کسی وقت بھی ایشیائے کو چک کے ترکوں سے ٹل نہ سکیں۔پھر آرمینیا کو جو بہت سے علاقے دیئے گئے ہیں ان میں کثیر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں۔اور ایسی بعض ولایات کے دینے کی تجویز ہے ، جہاں کی آبادی قریب قریب ساری مسلمان ہے۔حالانکہ یہ بانت ثابت ہے کہ آرمینین سیحیوں نے نہایت بیدردی سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور خود وزیر انگلستان اس بات کا انکار نہیں بر کر سکے کہ آرمینین مسیحیوں نے بھی مسلمانوں پر سخت سے سخت مظالم کئے۔پس اگر ترکوں کو اس جرم میں اس علاقہ کی حکومت سے بے دخل کیا جاتا ہے کہ وہ کردوں کو آرمینین مسیحیوں پر ظلم کرنے سے کیوں نہیں روک سکے کو جو خود مسلمانوں کو قتل کرنے کے جرم کے مرتکب ہیں مسلمانوں پر کیوں حکومت دے دی گئی ہے۔اور اگر کوئی ایسے قواعد بنا دیئے گئے ہیں کہ جن کے ماتحت آرمینین سبھی مسلمانوں پر ظلم نہیں کر سکیں گے تو کیوں انہی قواعد کے ماتحت آرمینیا کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا گیا تا مسلمان مسیحیوں پر ظلم نہ کر سکتے۔لو البین اسی طرح سمرنا کو یونان کے حوالہ کرنا بھی خلاف انصاف ہے۔