سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 281

شہری اُسے عذاب دینے کے لئے جمع ہوئے ایک درخت پر اُسے لٹکا دیا گیا اور بالکل تنگا کر دیا گیا۔بعضوں نے مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جاوے مگر دوسروں نے کہا کہ نہیں اسے آہستہ آہستہ مرنے دو۔اور پہلے مٹی کا تیل اس کے بدن کو ملا گیا پھر لکڑیوں کا انبار لگا کر پٹرول او پر ڈال کر اسے جلایا گیا۔اس کے پینے اور چلانے اور آہ و فریاد کرنے کو ایک پر لطف تماشا سمجھ کر عورت و مرد نے ڈیڑھ گھنٹے تک یہ نظارہ دیکھا اور جب اس کی لاش اتاری گئی تو وہ رسیاں جس سے وہ بندھا ہوا تھا ان کے ٹکڑے بطور یاد گار لوگوں نے اپنے پاس رکھے اور اس درخت کو تیس سے وہ لٹکایا گیا تھا۔ایک مقدس یادگار قرار دیا گیا۔پھر ابھی پچھلے ماہ میں ہی تسکیس گو میں حبشیوں پر تو کچھ ظلم کئے گئے ہیں اخبارات میں شائع ہوتے ہی رہے ہیں۔اس کی وجہ کیا تھی۔صرف یہ کہ ایک حبشی لڑکا جھیل کے کنارہ پرغلطی سے اس حصہ پر چلا گیا تھا۔جو سفید رنگ کی آبادی کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔اس پر سفید آبادی نے اس پر پتھروں کا مینہ برسایا اور اس واقعہ سے وہ خطرناک آگ بھڑک اٹھی جس نے پچھلے دنوں تمام دنیا کو حیرت میں ڈالے رکھا تھا۔انہی واقعات پر پریذیڈنٹ ولسن کو ایک دفعہ کہنا پڑا تھا کہ جب ہم اپنی ڈیمیا کریسی کو یہ ثابت کر کے کہ وہ کمزوروں کے لئے باعث حفاظت نہیں ہے ، ذلیل کر رہے ہیں تو دوسروں کے سامنے ڈلیا کریں کیونکر پیش کر سکتے؟ اگر کہا جائے کہ لالچ سے ایسا کیا جاتا ہے تو یہ درست نہیں کیونکہ امریکہ کو کوئی لالچ نہیں۔کم سے کم امریکہ کوئی حصہ اپنے لئے لینے کیلئے تیار نہیں۔پس معلوم ہوتا ہے کہ اس نفرت کا باعث کچھ اور ہے اور وہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ ترک مسلمان کہلاتے ہیں۔میرا مطلب اس بات کے کہنے سے کہ ترکوں سے اس لئے نفرت کی جاتی ہے کہ وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔یہ ہے کہ ان ممالک کے لوگوں کو اسلام سے اس قدر بعد ہے اور آباؤ اجداد سے اُن کے دل میں اسلام کی نسبت اس قدر ختیاں بٹھائی گئی ہیں کہ وہ اسلام کو ایک عام مذہب کے طور پر خیال