سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 282
PAY نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی تعلیم خیال کرتے ہیں جو انسان کو انسانیت سے نکال کر جانور اور وہ بھی وحشی جانور بنا دیتی ہے۔ان کے نزدیک اسلام ایسی وحشیانہ تعلیم دیتا ہے کہ اس کی موجودگی میں رحم اور انصاف دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا ہے صورت حال کو یوں نکھار کر پیش کرنے کے بعد آپ نے بڑے درد مند دل کے ساتھ یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان غیرممالک میں خصوصا امریکہ اور فرانس میں پروپیگینڈا کے مراکز قائم کریں اور آخیر پر مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک آریہ لیڈر لالہ لاجپت رائے کی پیٹھی کا ایک اقتباس پیش کیا جو اخبار لیڈ ر الہ آباد میں شائع ہوئی تھی اور جس نے ہندو ہونے کے باوجود غیر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈا کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے :۔مجھے اپنے سفروں میں اس سے زیادہ کسی امر نے تکلیف نہیں دی جس قدر کہ اس گہری نا واقفیت اور سخت تعصب نے جو اسلام اور اسلامی ممالک کے متعلق امریکہ میں پھیل رہا ہے۔ممالک متحدہ میں آپ کو چین۔جاپان اور ہندوستان کے ہمدرد تو ملیں گے لیکن میں نے اپنے پانچ سالہ سفروں میں ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا جو اسلام اور اسلامی ممالک کے متعلق کوئی کلمہ خیر منہ سے نکالتا ہو۔ایک مسلمان دوست سمیت مجھے ایک مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا جس میں ترکی حکومت کے مستقبل کے متعلق گفتگو تھی۔ترکوں کی طرف سے ایک ترک ہی وکیل تھا۔لیکن جو لوگ اس کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوتے تھے انہوں نے ایسی ناواقفیت اور کھلی کھلی دوستی اور تعصب کا ثبوت دیا کہ میرے لئے صبر کے ساتھ مننا مشکل ہو گیا۔ترکی وکیل نے بہت بری طرح وکالت کی اور اپنے خلاف تعصب کا طوفان کھڑا کر لیا۔ترکوں کو ایک ڈراؤ فی شہرت حاصل ہے اور مسلمان اقوام کے معاملہ کو ایسی طرح پیش کرنے کے لئے کہ لوگوں کے دل میں ان سے ہمدردی پیدا ہو ٹری لیاقت دانائی اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔آخر میں میرے دوست نے میرے کہنے پر اس تعصب کے کم کرنے کی کوشش کی مگر اس کی آواز کیلی آواز تھی۔الفضل قادیان ۲۷ ستمبر اه مته