سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 280

پولینڈ کا آزاد کر کے پھر اسی طرح اپنے ملک پر قابض ہے۔آسٹریا جو اس جنگ کا بانی تھا اپنے ملک میں اسی طرح حکومت کر رہا ہے اور صرف ان غیر علاقوں کو جو اس سے خود جُدا ہونا چاہتے تھے۔جھدا ہونے کی اجازت دی گئی ہے بخار یہ باوجود انتہائی درجہ کے مظالم اور غداری اور معاہدہ شکنی کے اپنے ملک پر قابض ہی نہیں بلکہ اسے سمندر کی طرف راستہ دینے کی تجاویز ہو رہی ہیں۔رومانیہ نے تین دفعہ ادھر سے اُدھر پہلو بدلا۔مگر اور زیادہ علاقہ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔لیکن ترک جس نے خود یورپین طاقتوں کے اقوال کے مطابق مجبور ہو کر جر من دباؤ کے نیچے جنگ کی تھی اور میں نے جنگ کے دوران میں نہایت شرافت، نہایت دلیری اور بہادری سے کام لیا تھا اور بحیثیت قوم کسی قسم کا ظلم نہیں کیا اس کو ناقابل حکومت قرا دیا۔کہا جاتا ہے کہ آرمینیہ کے قتل عام اس کی اصل وجہ ہیں۔۔۔۔۔لیکن ان کو صحیح تسلیم کر کے بھی دیکھا جاتا ہے۔کہ اسی قسم کے مظالم اور حکومتوں میں بھی ہیں۔روس میں جو کچھ بیٹود سے ہوتا رہا ہے وہ آرمینیہ کے قتل عام سے کم نہیں۔بلکہ بہت زیادہ ہے اب بولشو کس جو کچھ کر رہے ہیں سب دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے۔ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی انہوں نے قتل کر دیئے نہیں اور ایسے مظالم سے کام لیتے ہیں کہ عقل دنگ ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔امریکہ جو اس وقت کوائے حریت کا حامل ہے اور سب سے زیادہ انصاف و عدل کے دعوے کرتا ہے اور اسی وجہ سے پریذیڈنٹ دوستن کہتا ہے کہ اگر اس جنگ کے بعد ٹر کی حکومت قائم رہے تو گویا اس جنگ کی غرض ہی فوت ہو گئی خود اس کے ملک میں ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کی کے وسیع اختلافات کی وجہ سے نہیں کالے اور گورے رنگ کے فرق سے ایسے ایسے مظالم ہو جاتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ وکسبرگ میں لانڈ کلے نامی ایک انیس سالہ حبشی لڑکا جو کسی الزام کے ماتحت حوالات میں تھا اور جو بعد کی تحقیق سے بالکل بے گناہ ثابت ہوا اسے عام آبادی نے قید خانہ توڑ کر باہر نکال لیا۔اور بندہ کو