سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 245

۲۴۵ خلیفہ ایسیح کی زبر دست شخصیت ہے اور آپ کو اپنے کلام پر ایسی قدرت اور حکومت ہے کہ وہ اپنے سننے والوں کو جس قدر عرصہ تک چاہیں محویت کی حالت میں رکھ سکتے ہیں۔لاہور کے حال کے دونوں پبلک جلسے اس امر کی زیر دست شہادت ہیں اور عجیب بات ہے کہ ایسی تمام تقریریں عموٹا آپ نے حالت مرض میں کی ہیں " سے تقدیر الہی جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ جو دسمبر 199ئر میں منعقد ہوا اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی علمی تقریر تقدیر الہی کے موضوع پر تھی۔یہ مضمون ہمیشہ سے اہل مذاہب ہی نہیں بلکہ فلسفیوں اور حکماء کے درمیان بھی کئی لحاظ سے ایہ النزاع رہا ہے۔جبر اور اختیار کی گتھیوں کو سلجھانے میں انسان ہزاروں سال سے اُلجھا ہوا ہے لیکن گذشتہ حکماء کی بخشوں کا مطالعہ کریں یا جدید فلاسفہ کی تحریرات کو پڑھیں ہنوز روز اول کا سا معاملہ نظر آتا ہے۔مرغی پہلے تھی کہ انڈا پہلے جیسے یہ سوال فلسفیوں سے کبھی حل نہ ہو سکا۔تقدیر کی گنہ کو بھی وہ نہ پاسکے اور یہ سوال ہمیشہ انسانی ذہن کے لئے ایک چیلنج بنا رہا کہ تفت دیر کیا چیز ہے ؟ جوں جوں انسان اس مسئلہ پر غور کرتا ہے سوالات کی نئی نئی شاخیں پھوٹتی چلی جاتی ہیں۔مثلاً یہ کہ خدا تعالے قادر ہے تو کن معنوں میں۔کیا وہ ہر چیز پر قادر ہے یا محض بعض چیزوں پر تقدیر مل سکتی ہے یا نہیں۔تدبیر سے اس کا کیا رشتہ ہے۔تدبیر غالب ہے یا تقدیر۔اگر تقدیر غالب ہے تو تدبیر کی ضرورت کیا ہے۔تدبیر ضروری ہے تو تقدیر کے معنے کیا ہیں۔علیم الہی اور تقدیر کا رشتہ کیا ہے۔اگر خدا عالم الغیب ہے تو پھر کسی انسان کے با اختیار ہونے کی گنجائش کہانتک ہے۔انسان اپنے عمل اور ارادہ سے تقدیر الہی کو کیسے بدل سکتا ہے۔یہ اور اسی قسیم کے اور بہت سے سوالات ذہن انسانی کو اور الجھاتے چلے جاتے ہیں اور ذہنی کاوشوں کا نتیجہ مزید الجھنوں کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا اس موضوع پر ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب فرمانا جہاں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ ذہین اور بلید ہرقسم کے لوگ جمع تھے یقینا کوئی معمولی کام نہ تھا۔آپ نے جس عمدگی سے اس مضمون کو بیان کیا بلا شبہ وہ آپ ہی کا حق تھا۔یہ تقریر کیا تھی علم کلام کا ایک شاہکار تھا۔حق تو یہ ہے کہ الحکم ہے اپریل 1912 صدا