سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 246

۲۴۶ ہر محقق کو اس تقریر کا بالاستیعاب مطالعہ کرنا چاہیئے۔مسئلہ قضاء وقدر کی اہمیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بیان کرنے کے بعد آپ نے اس موضوع پر اظہار خیال فرمایا کہ مسئلہ تقدیر پر ایمان اور وجود باری تعالے پر ایمان لانا در اصل لازم و ملزوم ہیں۔اس کے بعد آپ نے قضاء و قدر کے متنازعہ فیہ نظریات پر بحث فرما کہ آنحضور صلے اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات میں تطبیق فرمائی۔اور اس کے بعد مسئلہ تقدیر کے نہ مجھنے کے نتیجہ میں انسان کو جو بڑی بڑی ٹھوکریں لگی ہیں اُن کا ذکر فرمایا۔منڈوں نے کیا ٹھوکر کھائی اور کیا نقصان اُٹھایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا غلطیاں کیں اور دیگر فلاسفہ نے اس مسئلہ کونہ سمجھ کرکیا کیا نقصانات اٹھائے ان تمام امور پر آپ نے نہایت مدلل اور دلنشین انداز میں بحث فرمائی۔پھر وحدت الوجود کے عقیدے کی غلطیاں ظاہر کرتے ہوئے چھے قرآنی آیات سے نہایت لطیف اور ٹھوس دلائل پیش کر کے اس عقیدہ کا تو فرمایا۔بعد ازاں اس کی دوسری انتہاء کو بھی غلط ثابت فرمایا اور اس خیال کی بدلائل تردید کی کہ خدا گویا کچھ نہیں کر سکتا۔اور جو کچھ بھی ہے وہ تدبیر ہی ہے۔علم الہی اور تقدیر الہی کو خلط ملط کرنے کے نتیجہ میں انسانی فکر نے جو ھو کریں کھائی ہیں اس کا نہایت عمدہ تجزیہ کر کے اس مسئلہ کو خوب نکھارا۔اور اس امر پر بھی گفتگو فرمائی کہ اللہ تعالے بڑے کاموں سے روک کیوں نہیں دیتا جبکہ وہ اس بات پر قادر ہے ایس ضمن میں ایک اقتباس پیش ہے۔آپ نے فرمایا :- اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالے کو جب یہ علم تھا کہ فلاں آدمی فلاں وقت یہ برا کام کرے گا تو اُسے روک کیوں نہیں دیتا مثلاً اگر خدا تعالے کو علم ہے کہ فلاں شخص چوری کرے گا تو کیوں اس نے چوری کرنے سے اُسے روک نہ دیا ؟ ہمارے پاس اگر ایک شخص سند سنگھ ڈاکو آئے اور کہے کہ میں نے فلاں وقت جیون لال کے گھر ڈاکہ مارتا ہے تو اس علم کے باوجود اگر ہم چپ بیٹھے رہیں تو ہم مجرم ہوں گے کہ نہیں؟ یقینا شرعی۔اخلاقی تمدنی اور اپنے ملک کے قانون کے لحاظ سے ہم مجرم ہوں گے۔حالانکہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں کوئی اور کام ہو، اورم جیون لال کو نہ بتا سکیں کہ اس کے گھر فلاں وقت ڈاکہ پڑے گا۔یا ہو سکتا