سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 244

مجھے نصیب ہوا۔اب دیکھو کہ اگر وہ بزرگ مرید کی بات مان لیتا تو ایسے وقت میں جبکہ اس کی ساری دُعائیں قبول ہونے میں بہت ہی تھوڑا عرصہ رہ گیا تھا اس کا دعا کو ترک کر دنیا کیسا خطرناک ہوتا اور اس کی سب محنت ضائع ہو جاتی۔پس مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔بہت سے قدم آگے ہی بڑھاتا چلا جاوے اور اپنی ناکامی پر کام نہ چھوڑ بیٹھے۔ہاں یہ بے شک غور کرے کہ میری ناکامی کے سبب کیا ہیں۔اور اگر کوئی سیب معلوم ہو تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرے مگر خدا تعالٰی کے فضل سے نا امید کبھی نہ ہو یہ نہ اس جلسہ پر آپ کی مختلف تقاریر کا جو اثر غیروں نے قبول کیا اس کے تفصیلی ذکر کا تو موقع نہیں ہاں معاصر اخبار اتحکم کے ایک اقتباس پر اکتفاء کی جاتی ہے جو ایک سخت معاند آریہ سماجی اخبار کے اعتراف حق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔" ایک قادر الکلام کا انجانہ آپ کی تقریر کے متعلق آریہ سماج کے معززا در زیر دست اخبار پرکاش کی رائے یقینا پچسپی سے پڑھی جائیگی اور میں اسے اس لئے یہاں دیتا ہوں کہ احمدی جماعت کو معلوم ہو جاوے کہ اس کی عقیدت اور ارادت کے متعلق مخالفین سلسلہ بھی ایک خاص عظمت محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ پر کاش لکھتا ہے کہ :۔جلسہ میں خاص کشش کا باعث میرزا محمود احمد صاحب کے لیکچر تھے ہیں احمدی دوستوں کی عقیدت اور بردباری کی تعریف کرنی چاہئیے کہ میر نہ صاحب کے لیکچر پانچ گھنٹے تک ہوتے رہے اور وہ سنتے رہے۔آریہ سماج کے اندر بڑے سے بڑا دیا لکھتا لیکچرار بھی یہ بہت نہیں رکھتا کہ حاضرین کو پانچ گھنٹوں تک بیٹھا سکے۔یہاں تو لوگ ایک گھنٹہ میں اکتانے لگ جاتے ہیں۔ہم اپنے احمدی دوستوں کو اُن کے جلسہ کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں۔معزز ہمعصر کی اس صاف اور بے لوث رائے پر میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں احمدی جماعت کی عقیدت اور ارادت کے علاوہ ایک خاص چیز ہے جس کا اشارہ خود پر کاش نے کیا ہے۔وہ حضرت ه عرفان الہی طلا ۶۲