سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 231

۲۳۱ اس وصیت میں آپ نے آئندہ آنے والے خلیفہ کو یہ بھی نصیحت فرمائی۔" امہات المؤمنین خدا کے حضور میں خاص رتبہ رکھتی ہیں پس حضرت ام المومنین کے احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ ہیں روک نہ ہوں احترام کرے۔میری اپنی بیویوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وعیت ہے کہ وہ قرضہ حسنہ کے طور پر ان کے خروج کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولاد انشاء اللہ ادا کرے گی۔بصورت عدم ادائیگی میری جائداد اس کی کفیل ہو" اس وصیت میں دوسرے امور کے علاوہ یہ امر بھی عجیب محسوس ہوتا ہے۔کہ میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی لکھوانے کی بیجائے آپ نے میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح مود علیه السلام لکھوایا۔شاید اس میں یہ حکمت ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اولاد یعنی خلیفہ کی حیثیت سے یہ وصیت لکھوا رہے تھے اس لئے ولدیت میں آپ کا نام لکھوانے کی بجائے مقام اور مرتبہ کو ملحوظ رکھا۔دوسرے یہ کہ حضرت ام المؤمنین کے اعلیٰ اور ارفع مقام کی نشاندہی کرنے کے باوصف اور باوجود اس کے کہ آپ کو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے شدید محبت تھی آپ نے آنے والے خلیفہ کو جہاں نصیحت فرمائی کہ آپ کے احساسات کا خیال رکھے وہاں ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کے نزدیک مقام خلافت کتنا بند تھا اور خلیفہ وقت کے فرائض کتنی اہمیت رکھتے تھے۔یہ وصیت تاریخ احمدیت جلد جسم کے ص ۲۳ تا ص ۲۳ پر درج ہے اور اصل وصیت جو حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے خلافت لائبریری میں محفوظ ہے۔اگر چہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے وصیت لکھوا کر اپنا فرض ادا فرما دیا اور دنیا سے منہ موڑ کر رفیق اعلیٰ کی بقا کے لئے ہمہ تن تیار ہو گئے مگر اللہ تعالے کی مشقت ایک دوسرے رنگ میں ظاہر ہوئی اور وصیت لکھوانے کے بعد سے ہی آپ کی طبیعت سنبھلنی شروع ہو گئی اور اس کے بعد ہر آنے والے دن میں آپ کی صحت پہلے سے بہتر ہوتی چلی گئی۔لیکن اس بیماری کا آپ کے جسم پر ایسا گہرا اثر پڑا کہ اس سال معینی دسمبر مشالہ میں آپ کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ جلسہ سالانہ کا اہتمام فرماتے اور جماعت کو حسب معمول نصیحتوں اور ملاقاتوں سے