سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 230
خیال سے کہ شاید آپ کا آخری وقت آن پہنچا ہے آپ نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو بعض دوسرے خدام سلسلہ کی موجودگی میں ایک وصیت لکھوائی جس میں آئندہ انتخاب خلافت کے متعلق طریق کار بیان فرماتے ہوئے آنے والے خلیفہ سے بھی ایک عہد لینے کی تلقین فرمائی۔چونکہ یہ واقعہ جماعت کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس سے حضرت صاحب کے کردار کے اس پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ جب آپ سمجھے کہ وقت آخر آن پہنچا ہے تو ایسے وقت میں سب سے زیادہ کون میں منکر آپ کو دامنگیر ہوئی۔اس لئے اس عہد کے الفاظ کو جیسے آپ نے آنے والے خلیفہ کے لئے تجویز کیا من وعن پیش کیا جاتا ہے:۔میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی بنائی ہوئی تعلیم اسلام پر میں یقین رکھوں گا اور عمل کروں گا اور دانستہ اس سے ذرا بھی اِدھر اُدھر نہ ہوں گا بلکہ پوری کوشش اس کے قیام کی کروں گا۔روحانی امور سب سے زیادہ میرے مد نظر رہیں گے اور میں خود بھی اپنی ساری توجہ اسی طرف پھیروں گا۔اور باقی سب کی توجہ بھی اسی طرف پھیرا کروں گا اور سلسلہ کے متعلق تمام کاموں میں نفسانیت کا دخل نہیں ہونے دوں گا اور جماعت کے متعلق جو پہلے دو خلفاء کی سنت ہے اس کو ہمیشہ مد نظر رکھوں گا؟ آئندہ خلیفہ کے لئے جو عہد آپ نے تجویز فرمایا وہ دراصل آپ کی اپنی فطرت اور شخصیت کا خلاصہ ہے جو اس وقت آپ کے ذہن میں اُبھرا جب آپ یہ سمجھتے تھے کہ گویا اس دُنیا سے کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے چنانچہ آپ کی وصیت کا پہلا فقرہ ہی اس قلبی کیفیت کو ظاہر کر رہا ہے۔آپ نے فرمایا :- تیں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رُو برو ان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخری ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کاتب ہے ، جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں "