سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 176
124 اجتماعی مشاورت کا یہ سلسلہ باقاعدہ سالانہ صورت میں جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ خلافت ثانیہ کے آغاز تک ایسی مجلس حسب ضرورت بلائی جاتی رہی۔۱۹۲۷ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ با قاعدہ سالانہ مجلس مشاورت کا نظام قائم فرمایا۔حضور کے اس فیصلہ پر جسے جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک بنیادی حیثیت حاصل تھی، بعض کم فہم اشخاص نے اعتراضات بھی کئے کہ یہ ایک ایسا مالی بوجھ ہوگا جو جماعت برداشت نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس زمانہ میں چندوں کی کیفیت یہ تھی کہ بعض اوقات کارکنوں کو ماہانہ تنخواہ دینے کے لئے بھی کئی کئی ماہ انجمن کے پاس پیسے نہ ہوتے تھے اس پر مصر کرتے ہوئے آپ نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا است۔" کہا جاتا ہے کہ اس قدر کام جاری کرنے کی طاقت نہیں۔مگر مشکل کے وقت یا نا سمجھی کے باعث ایسے خیال پیدا ہونے کوئی بڑی بات نہیں اور میں سمجھتا ہوں جو کہنا ہے کہ جماعت یہ بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں، وہ معذور ہے۔مگر میں بھی معذور ہوں۔میری طبیعت خدا نے ایسی بنائی ہے کہ میں یہ سوچتا رہتا ہوں کہ کونسا کام کریں۔جس سے دنیا میں ہدایت پھیلے۔۔۔۔۔۔۔وہ دن یا وہ سال میں میں نجات کا قدم آگے نہ ہو میرے لئے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرنا بلکہ ہمیشہ کرتا ہے۔دنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کر کے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ پیش کر دو۔مگر میں نے رپورٹ خدا کے سامنے پیش کرنی ہے۔اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر تبھی ہے۔اس لئے مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج جو کام کر رہے ہیں یہ آئندہ زمانہ کے لئے بنیاد ہو۔ہمارا کام یہ نہیں کہ دیکھیں ہمارا کیا حال ہوگا بلکہ یہ ہے کہ جو کام ہمارے سپرد ہے اُسے اس طریق پر چلائیں کہ خدا کو کہ سکیں کہ اگر بعد میں آنے والے احتیاط سے کام لیں، تو تباہ نہ ہوں گے۔پس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لئے بنیاد رکھیں۔جس کی نظر وسیع نہیں اُسے تکلیف