سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 175
140 ط تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ذکر کرنے والے پر ایک عجیب سوز و گداز کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔جو ذکر سننے والے کے دل کو بھی گرمی عشق سے پچھلا دیتی ہے اور آہیں دعائیں بن کر دل سے اُٹھنے لگتی ہیں۔مجلس مشاورت کا باقاعد قیام قرآن کریم نے مثالی اسلامی معاشرہ کا تصور پیش کرتے ہوئے جو مختلف رہنما اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ایک باہمی مشورہ کا اصول بھی ہے جیسا کہ فرمایا :- وامرهم شوری بننَهم (سوره شوری آیت (۳۹) اس مشورہ کے امر کو جماعت احمدیہ میں ایسے رنگ میں قائم کرنا جو صحیح اسلامی اقدار کے عین مطابق ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو قیامِ جماعت احمدیہ کے اولین اغراض و مقاصد میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اہم امور میں صائب الرائے احباب سے مشورہ لینے کی سنت پر ہمیشہ کاربند رہے اور وقتا فوقتا عند الضرورت کبھی انفرادی طور پر اور کبھی اجتماعی طور پر احباب جماعت سے مشورہ لینے کا انتظام فرما یا ی نائی مشورہ کی ایک اہم مثال ۱۸۹۱ ء میں ہمارے سامنے آتی ہے جبکہ دسمبر میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کیا گیا۔جماعت کی تعداد اس وقت اتنی قلیل تھی کہ جلسہ کے موقع پر صرف ۷۵ زائرین شامل ہوئے۔اس قلیل تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے جلسہ اور مشاورت کا الگ انتظام کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی لہذا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی جلسہ سالانہ سے مشاورت کا کام بھی لیا۔اور جماعت احمدیہ کی اس پہلی مجلس مشاورت میں جو تجویز پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ اللہ تعالے کی طرف سے بکثرت ظاہر ہونے والے نشانا کا ریکارڈ محفوظ کرنے کی خاطر ایک ایسی انجمن بنائی جائے جو احمدی اور غیر احمدی حضرات پرشتمل ہو۔یہ تجویز بالاتفاق اس ترمیم کے ساتھ منظور ہوئی کہ فی الحال حضرت مسیح موعود کے رسالہ آسمانی فیصلہ کو جس میں یہ تجویز موجود ہے شائع کر دیا جائے۔اس پر مخالفین سلسلہ کا عندیہ معلوم کرنے کے بعد بتراضی فریقین مجوزہ انجمن کے ممبران مقرر کئے جائیں۔