سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 13

دُعاء - حرم اور توکل علی اللہ س دور میں سب سے نمایاں خصوصیت جو حضرت خلیفہ امیج کے کردار میں نظر آتی ہے وہ دعاء - عزم اور توکل علی اللہ کا ایک دلکش امتزاج ہے۔فتنہ انکار خلافت کے مقابلہ کے لئے حصّہ امکان تک جو ظاہری اسباب اختیار کئے جا سکتے تھے وہ آپ نے کئے لیکن ایک لحظہ کے لئے بھی کبھی ان اقدامات پر بھروسہ نہ کیا اور انہیں کافی سمجھا بلکہ مسلسل عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔اور جماعت کو بھی بار بار اس طرف توجہ دلاتے رہے۔صاحب عزم تو آپ تھے ہی دُعاوی نے اس عزم کو دوبالا کر دیا۔اور دعاء اور عزم کے ملاپ سے ایک ایسا تو کل آپ کے اندر پیدا ہوا جس کی نظیر دنیوی رہنماؤں میں تلاش کرنا محض عبث اور بے معنی ہے۔آپ کے عزم اور توکل کا امتزاج نور علی نور کا ایک دلکش منظر پیش کرتا تھا ایک طرف آپ دُعا کرتے۔خدا تعالے کی طرف جھکتے اور جماعت کو بھی اس کی تلقین فرماتے تو دوسری طرف بار بار بلا اشتباه یہ بات واضح کرتے چلے جاتے کہ یہ کوئی کار یا ہے دنیا نہیں میں محض خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق فیصلے کروں گا اور اس کے بعد مجھے ایک ذرہ بھی اس بات کی پرواہ نہیں ہوگی کہ دُنیا میں کوئی اور میرا ساتھ دیتا ہے یا نہیں۔آپ کے اس کردار کو نمایاں طور پر سمجھنے کے لئے 19 مارچ سالہ کی ایک تقریب کے دوران آپ کے مندرجہ ذیل ملفوظات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر اس کے ساتھ اس اعلان کے ایک دوسرے حصہ کو ملا کر پڑھا جائے جو آپ نے 4 ر ا پریل ۱ء کو شائع فرمایا تو تصویر مکمل ہو جاتی ہے۔خوب یاد رکھو اس وقت موجودہ صورت میں وہ کام جو پچپی سال میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اور ان کے بعد اپیتال تک حضرت خلیفہ ایسیح نے کیا تھا خطرہ کی حالت میں ہے ایک جماعت ہے جو اس کے ٹکڑے کر دینے میں فرق نہیں کرتی ان کو مد نظر ہے کہ مقابل والوں کو شکست دے دیں۔وہ