سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 14

۱۴ زور لگا رہے ہیں۔اپنے علم اور طاقت کو اس مقصد کے لئے صرف کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک طاقت ہیں اور ہم یہ کر سکتے ہیں۔اللہ تعالے بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ہم تو بالکل ناتواں ہیں۔ہاں ہمارا بھروسہ اللہ تعالے یہ ہے۔وہ بڑی طاقتوں اور قدرتوں والا ہے۔وہ اپنے سلسلہ کو ہر ایک شر اور ضرر سے بچا سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ بچائے گا۔میں اس وقت اُس دل کو متقی نہیں سمجھتا جس میں اس کے لئے درد نہ ہو۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں گر جاؤ اور کہو کہ اسے مولیٰ کریمیم ! یہ نظارہ تو ہمارے دہم میں بھی نہ تھا کہ وہ جماعت جس کو تو نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس سال سے تو اس کی حفاظت کرتا آیا ہے اب اس پر یہ ابتلاء آیا ہے کہ وہ غیروں کے نہیں اپنوں کے ہاتھ سے خطرہ میں ہے۔مجھے تو اس تصویر اور وہم سے ہی جنون ہونے لگتا ہے کہ وہ جماعت جو بڑی کوشش اور عقدِ ہمت۔سوزو گداز سے تیار کی گئی تھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاوے۔مگر چندا تعالیٰ سے ڈھارس آتی اور اس سے تسلی ملتی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔پس تم راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھو۔جو روزے رکھ سکتے ہیں وہ روزے رکھیں۔صدقات اور خیرات کریں اور دن کی عبادتوں میں بھی زیادتی کرو۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ نماز کے لئے آنکھ نہیں کھلتی۔مجھے اس پر رونا آیا کہ اس کو نیند کس طرح آتی ہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ روزے اور عبادت زیادہ کرنے صدقات و خیرات سے مصائب مل جایا کرتے ہیں۔پس تم تجد اور نوافل میں سستی نہ کرو۔اور مل کر دعائیں کرو کہ موئے کریم احمدی جماعت کو ایک نقطہ پر متحد کر دے۔مجھے تسکی