سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 8
خدا کی مخالفت کرتا ہے۔میں نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ وہ میری بعیت کرے، نہ کسی سے کہا کہ وہ میرے خلیفہ بننے کے لئے کوشش کرے اگر کوئی شخص ایسا ہے تو وہ علی الاعلان شہادت دے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ جماعت کو دھوکے سے بچائے۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے اور جماعت کی تباہی کا عذاب اس کی گردن پر ہو گا۔اسے پاک نفس انسانو! جن میں بدظنی کا مادہ نہیں میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنا دے یہ اس کا اپنا فعل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں میں کیونکہ تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو رد کروں مجھے اس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اُسے کیونکر پسند آگیا۔لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اس کرتہ کو مجھے سے نہیں اتار سکتا جو اس نے مجھے پہنایا ہے یہ خدا کی دین ہے اور کونسا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔خدا تعالے میرا مددگار ہوگا۔میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقتور ہے۔میں کمزور ہوں۔مگر میرا آقا بڑا توانا ہے۔میں بلا اسباب ہوں مگر میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے۔میں بے مدد گار ہوں مگر میرا رب فرشتوں کو میری مدد کے لئے نازل فرمائیگا انشاء الله میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے