سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 7
یہ خاطر نظام خلافت کا یہ ڈھونگ رچایا ہے۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام واضح طور پر صدر انجمن احمدیہ کو اپنا جانشین مقرر فرما گئے تھے۔نیز یہ کہا گیا کہ ابھی سے ان لوگوں نے دین کو بگاڑنا شروع کر دیا ہے اور اگر اس نعوذ باللہ گمراہ کن غیر ذمہ دار کچی عمر کے نوجوان کی قیادت کو جماعت احمدیہ نے قبول کر لیا تو دیکھتے دیکھتے احمدیت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔اور قادیان پر عیسائیت قابض ہو جائے گی۔اس قسم کے زہر یلے پراپیگنڈہ سے لیس بیسیوں کا رندے ہر طرف جماعتوں میں دوڑا دیئے گئے اور انہیں خلافت کی بعیت سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ان حالات کے پیش نظر حضرت خلیفة المسیح الثانی نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بکثرت رسائل اور اشتہارات کے ذریعے جماعت پر اصل صورت حال واضح فرمائی اور منکرین خلافت کے ہر قسم کے اعتراضات کا مؤثر جواب دیا۔اس ضمن میں سب سے پہلے آپ کا اشتہار مون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے" بشدت ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔پراشتہا جہاں ایک طرف ہمیں آپ کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں اور واضح قوت استدلال سے روشناس کرواتا ہے وہاں آپ کے توکل علی اللہ، عزم صمیم، یقین کا مل اور خلوص قلب کی بھی روشن دلیل ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔" مجھے اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں تفرقہ کے آثار ہیں بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا ر ہے ہیں یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریزیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوا۔مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں، کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں۔اس کی بعیت کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح حضرت خلیفہ اول کی تھی۔یہ بات بھی غلط مشہور کی جاتی ہے کہ جماعت کا اس وقت تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا۔بلکہ خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے، وہ