سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 9
کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں میں جھوٹا ہوں اور یہ کہ میں مدتوں سے بڑائی کا طلب گار تھا اور فخر میں مبتلا تھا جاہ طلبی مجھے چین لینے دیتی تھی۔مگر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تمہارا اعتراض تو وہی ہے جو نمود نے صالح پر کیا یعنی بَلْ هُوَ كَذَاب اخر وہ تو جھوٹا اور متکبر اور بڑائی کا طالب ہے اور میں بھی تم کو وہی جواب دیتا ہوں جو حضرت صالح علیہ السّلام نے دیا کہ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَابُ الْأَشِر ذرا صبر سے کام لو، خدا تعالے کچھ دنوں تک خود بتا دے گا کہ کون جھوٹا اور متکبیر ہے اور کون بڑائی کا طلب گار ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے انتخاب کے لئے ایک لمبی میعاد مقرر ہونی چاہیے تھی کہ کُل جماعتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر انتخاب ہوتا لیکن اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی کہ ایسا کیوں ہوتا نہ تو ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی وفات پر ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بعیت کرنے والے بارہ سو آدمی تھے اور جو میں گھنٹے کا وقفہ ہوا تھا۔لیکن اب اٹھائیس گھنٹے کے وقفہ کے بعد قریباً دو ہزار آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ پر سبعیت کی۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر تو ابتداء میں صرف تین آدمیوں نے بعیت کی تھی یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ نے مہاجرین میں سے اور قیس ابن سعد نے انصار میں سے اور بیت کے ات بعض لوگ تلواروں کے ذریعے بیعت کو روکنا چاہتے تھے یکڑ کر لوگوں کو اُٹھانا چاہتے تھے اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور سبعیت کو لغو قرار دیتے تھے ے سورہ قمر آیت ۲۶ - سے سورہ قمر آیت ۲۷