سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 354

ہوتے ہیں۔اُن سے محبت و شفقت کا سلوک کیا جاوے۔اس طرح سے مایوسی اور بد اخلاقی دُور ہو جاوے گی " د احمدی خانون فروری ۶۱۹۳۳ اسی سال مشاورت کے موقع پر اس حصہ مضمون کو دُہراتے ہوئے آپ نے اپنی جماعت کے سامنے لجنہ کا جو پروگرام رکھا اس میں خدمت خلق کو خاص اہمیت دی۔آپ نے فرمایا۔" اس کی زمینی لجنہ اماء اللہ کی ، ممبر مستورات خواہ وہ امیر ہوں یا غریب مل کر کھائیں اور پھر بتائی اور غرباء کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلائیں اور ان کی خدمت کریں یتیم بچے جو کسی جماعت کا اچھا حصہ بن سکتے ہیں جب وہ ہر طرف سے سختی اور بے تہری دیکھتے ہیں تو رہے ا ان کے دل سے محبت اور نرمی غائب ہو جاتی ہے۔پس جب وہ ان کو بلائیں گی ان کی خدمت کریں گی اور ان سے حسن سلوک سے کام لیں گی تو ان میں بھی اچھے احساسات پیدا ہوں گے اور ان کی آئندہ زندگی درست ہو جائے گی۔دل پر اثر ڈالنے والی اس قدر تقریہ نہیں ہو سکتی جس قدر حسن سلوک ہو سکتا ہے" د رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ ء : 14-16 ه) آپ کی سیرت کا یہ خاص پہلو ہے کہ آپ محض ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ فرماتے تھے بلکہ ہمیشہ اس کی نگرانی فرماتے کہ ان ہدایات پر باحسن طریق عمل شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔چنانچہ لجنہ کو یہ ہدایت دینے کے بعد اس کا آغاز بھی خود اپنی نگرانی میں کروایا اس واقعہ کا ذکر حضور کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :- " آج لجنہ کا ایک تمہ نی جلسہ میں نے کرایا ہے اس میں بیوہ عورتوں کو دعوت دی گئی ہے اور لجنہ کی ممبروں ہی نے سب کام اپنے ہاتھ سے کیا ہے کسی نے کھانا پکایا اور کسی نے ہاتھ دھلائے۔پھر سب نے باہم مل کر کھانا کھایا۔ایسا ہی اب میرا ارادہ ہے کہ ایک جلسہ لجنہ کی ممبروں سے ینائی کی دعوت کا کرائیں۔۔۔۔۔۔۔۔تیامی کے اندر جو جذبات