سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 355

۳۵۵ محبت اور پیار کے ہوتے ہیں وہ دب جاتے ہیں کیونکہ والدین کا سایہ سریز نہیں ہوتا وہ کس سے محبت کا اظہار کریں۔اس لئے اس طریق پر جب یہ پہیلیاں ان بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر ان سے محبت اور پیار کا برتاؤ کریں گی اور ان کو بہلائیں گی تو وہ دبے ہوئے جذبات پھر زندہ ہو جائیں گے اور اس سے ان کی اخلاقی قوتوں پر بھی اثر پڑے گائے احکم ، فروری سمت لجنہ اماء اللہ کا قیام احمدی مستورات کی تاریخ میں حضرت سیدہ امتہ الحی حریم ثانی حضرت خلیفہ ابسیج الثانی کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دل انہیں محبت سے یاد کرتے ہوئے دُعائیں دیں گے کیونکہ احمدی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے یہ ان ہی کی دلی تڑپ تھی جو بالآخر عالمی تنظیم لجنہ اماء اللہ کی تشکیل کا محرک بنی۔اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مصلح موعود قوامی تعمیر و تنظیم کی وہ غیر معمولی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوئے تھے کہ اگر اس جو ہر قابل کے لئے خارجی محرک نہ بھی ہوتا تو وہ ماحول کو منور کردینے کی استعداد رکھتا تھا۔لیکن یہ اللہ تعالے کا آپ پر خاص فضل تھا کہ آپ کو بکثرت ایسے رفیق اور مددگار عطا فرمائے جو خود بھی ایک طبعی جوش ان نیک کاموں کے لئے رکھتے تھے جن کو سر انجام دینے کے لئے آپ عالم وجود میں آئے۔آپ کی رفیقہ حیات حضرت خلیفہ ایسی اول کی پیاری بیٹی حضرت سیدہ امتہ الحی بھی آپ کے لئے ایک ایسا سلطان نصیر ثابت ہوئیں۔اپنے عظیم الشان باپ سے علم کی لگن ورثہ میں پانے والی سعید فطرت اور سعید روح رکھنے والی یہ عظیم خاتون اگرچہ اگر بہت تھوڑی دیر اس عالم فانی میں زندہ رہیں اور اپنے محبوب آقا حضرت مصلح مو کے ساتھ انہیں محض گنتی کے چند سال رفاقت کے نصیب ہوئے لیکن ان چند سالوں میں ہی انہوں نے اپنی فطری سعادت اور خدمت دین کی بے پناہ لگن کے باعث حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے دل میں اپنے لئے ایک خاص مقام پیدا کر لیا۔خواتین میں حضرت خلیفہ المسیح کے درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھوانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر تھا۔