سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 320

مشاورت کے بعد خاکسار کو بھی شدھی کے علاقے میں کام کرنے کی تو نسیق اللہ تعالیٰ نے دی ہے پس بہترین اور کامیاب رہنما وہی ہوا کرتا ہے جو عقل اور جذبات میں توازن قائم رکھے۔آپ نے اس تمام عرصہ میں اس توازن کو اس عمدگی کے ساتھ قائم رکھا کہ اس کا نظارہ کرنے والا بے اختیار ہو کر مرحبا، اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے لگتا ہے۔ایک طرف تو ایسا عمدہ اور معقول منصوبہ جماعت کے سامنے رکھا جو باقاعدہ منظم صورت میں جماعت کے لئے ایک پروگرام پیش کرتا تھا اور جذباتی اور تخیلی اثرات سے پاک خالصہ عقل اور تجربات کی دنیا سے تعلق رکھتا تھا۔یہ ایک نہری نظام کے مشابہ تھا جسے بڑے فکر و تدبر سے ، بڑی محنت اور جان کا ہی کے ساتھ اس طرح تیار کیا گیا کہ ہر طرف آبپاشی کا ایک جال بچھ جائے۔اور پانی کا ایک ایک قطرہ فصلوں کی نشو و نما کے لئے استعمالی ہو۔دوسری طرف آپ نے جذبات میں اپنی شعلہ نوائی سے ایک ایسا ہیجان پیدا کر دیا کہ ہر سینے میں قربانی کے ولولے موجزن ہو گئے۔پھر آپ نے ان کو نظم و ضبط کا ایک عظیم بند باندھ کر اس طرح محفوظ کر لیا کہ وہ سیلاب کی صورت میں غارت گری کرانے کی بجائے نظم و ضبط کی نہروں میں بہتے ہوئے جن زمینوں کا رُخ کریں حیات آفر سنی ہی کا موجب نہیں۔اگر چہ وفور جذبات کا یہ عالم تھا کہ آپ چاہتے تو ہزارہ ہا مخلصین کار زار تھی میں جھونک دیتے لیکن آپ جانتے تھے کہ اس طرح فائدہ کی بجائے نقصان کا احتمال زیادہ ہے اور تھوڑے عرصہ ہی میں قوم کی ساری طاقت استعمال ہو کر جوش ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔چنانچہ آپ نے ابتداء میں صرف ڈیڑھ سو مجاہدین طلب کئے۔اگر چہ تھوڑے نہی عرصہ میں ڈیڑھ ہزار کے قریب نوجوانوں اور بوڑھوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا لیکن آپ نے بڑے حزم و احتیاط کے ساتھ حالات کے تقاضوں کے مطابق انتخاب فرمایا اور نہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے ہر گروہ کا ایک امیر مقرر فرمایا۔کہ وہ اپنے علاقہ میں رہ کر مفوضہ فرائض انجام دے۔ان سب پر مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا گیا۔جو اصولی ہدایات دی گئیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ امیر کی اطاعت ہر حال میں فرض ہوگی نفسانی جوشوں کو دبانا پڑے گا۔اور شدید آزمائش کے باوجود فتنہ و فساد سے بچنا ہو گا ماریں کھانے کے باوجود ہاتھ اُٹھانے کی اجازت نہ ہوگی۔کم از کم تین ماہ کے لئے وقعت کرنا ہو گا اور اس عرصہ میں ہرقسم کے اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے علاقے کے باشندوں پر کسی قسم کا مالی یا ذاتی بو مجھ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اگر کھانا میٹر نہیں