سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 319

۳۱۹ وار کئے جائیں گے۔تمھیں کا فرو ملحد و دقبال قرار دیا جائے گا اور یہ کہا جائے گا کہ تمھاری تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کہ مرتد ہونے والے ملکانے آریہ، بر ہمو سماج یا عیسائی ہو جائیں۔لیکن کسی احمدی کے ذریعہ کلمہ توحید کا اقرار نہ کریں لیکن جہاں ایک طرف آپ دنیوی خطرات سے خوب تنبیہ کرتے وہاں خدا کی عظمت اور جلال کا نقشہ بھی اس انداز میں کھینچتے کہ دل خشیت اللہ سے بھر جاتے۔اور دنیا کی زندگی اور دنیوی آرام و آسائش سے دل اچاٹ ہو جاتے۔اور آپ کے خطبات کو سننے والا ہر شخص اور آپ کی تحریکات کو پڑھنے والا ہر قاری برضا و رغبت ایک والہانہ جذبہ قربانی کے ساتھ اپنی زندگی اور تمام متاع زندگی اس خدمت کے لئے پیش کر دیتا۔اس موقع پر آپ جماعت سے جس عظیم مالی قربانی کی توقع رکھتے تھے اور میں اسمائی اقدام کے لئے آپ تیار کھڑے تھے اس کا اندازہ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ہی۔اسے ایل ایل بی کی روایت سے ہوتا ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے حضرت شیخ صاحب فرماتے ہیں :- ۱۹۲۳ء کی مجلس مشاورت میں خاکسار موجود تھا۔حضور نے شدھی کے متعلق تقریر کی اور ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ اگر آریہ قوم اپنے مال و دولت کے بل بوتے پر شدھی کو کامیاب کرنا چاہتی ہے تو میرا اندازہ ہے کہ اس وقت میری جماعت کی کل جائیداد کی قیمت کا اندازہ دو کروڑ روپیہ کے قریب ہوگا میری جماعت یہ سب املاک و جائیداد اس تحریک شدھی کے خلاف قربان کرنے سے دریغ نہ کرے گی۔اس بات سے حضور کا اولو العزم ہونا اور جماعت کی ایسی تربیت کرنا اور یہ یقین کہ جماعت خوشی سے اپنا سب کچھ قربان کر دے گی ثابت ہے۔چنانچہ بعد کے واقعات اسی اطاعت کو ثابت کرتے ہیں سمعنا واطعنا کے مطابق۔مجھے نہیں معلوم کہ حضور کی تقریر کے یہ فقرات کہیں شائع یا صبح ہوئے ہیں یا نہیں لیکن مجھے یہ اچھی طرح یاد ہیں اور میں کئی موقعوں پر دوستوں اور دیگر اشخاص سے یہ ذکر کرتا رہا ہوں ۱۹۳۳ء کی