سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 321
۳۲۱ تو چنے چبا کر اور اگر چنے بھی میسر نہیں تو درختوں کے پتے کھا کر زندگی کا رشتہ قائم رکھنا پڑیگا کیک مقامی باشندوں سے مانگ کر کھانے کا خیال ہی دل میں نہیں آنا چاہیئے۔صرف زبانی نصائح سے کام نہیں لینا بلکہ جہاں تک ممکن جو علاقے کے مفلوک الحال اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا اور ان کی مدد کرنی ہے۔ان اصولی ہدایات کی مشعل لئے جتنے قافلے اس مہم پر روانہ ہو سبھی نے نظم وضبط کا حیرت انگیز مظاہرہ کیا اور قربانیوں کی ایسی شاندار مثالیں قائم کر دیں که قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوگئی۔اگر چہ مجاہدین نے سو فیصدی اپنا خرج خود برداشت کیا۔لیکن ان اخراجات کے علاوہ بھی جو مجاہدین کو میدان عمل میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کرنے پڑتے تھے مرکزی انتظامی ضروریات کے لئے لٹریچر کی اشاعت اور دنیا کو صورت حال سے باخبر رکھنے کے لئے اور پھر عند الضرورت مقدمات کی پیروی اور حکام وقت سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے ایک خطیر رقم کی ضرورت تھی۔یہی وجہ تھی کہ آپ نے جماعت میں پچاس ہزار روپے چندہ کی تحریک فرمائی اس تحریک پر بھی جماعت نے حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس مطالبہ کو پورا کر کے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔اس وقت یہ مالی تحریک اتنا بڑا مطالبہ سمجھا جاتا تھا کہ ہندوستان کے غیر احمدی اور غیر مسلم پریس نے بھی اس بات کا نوٹس لیا اور نظریں اس طرف لگ گئیں کہ آیا یہ چھوٹی سی جماعت اتنے بڑے مطالبہ کو پورا کر سکتی ہے یا نہیں ؟ بلاشبہ جماعت کی اس وقت کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ بہت بڑا مطالبہ تھا۔ایک معمولی عزم و ہمت کا انسان گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ قلیل اور غریب جماعت اتنی بڑی قربانی دے سکتی ہے۔لیکن دنیا نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ جماعت نے ہر رنگ میں آپ سے تعاون کیا اور ہر آواز پر لبیک کہا۔قربانیاں پیش ہی نہیں کیں بلکہ اس شان اور اخلاص اور جذبہ ایمان کے ساتھ پیش کیں کہ ان کے ذکر پہ آج بھی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں اور دل کی گہرائیوں سے خود بخود ان مجاہدین کے لئے دعائیں نکلتی ہیں۔الفضل ه ۱ مارچ ۱۹۲۳ء میں ایک بوڑھے باپ کے جذبات کا ان الفاظ میں ذکر ہے :- ار مارچ جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی عصر کی نماز کے بعد مسجد میں رونق افروز ہوئے تو قاری نعیم الدین صاحب بنگالی نے جو ایک معمر اور سن رسیدہ بزرگ ہیں کچھ عرض کرنے کی اجازت