سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 162
۱۶۲ ضروری ہے یہ سل مختلف اداروں کی کڑی اور منصفانہ نگرانی کے سلسلہ میں فرمایا :- وہ دوست جو اس وقت باہر سے تشریف لائے ہیں اگر ان کو مرکز میں کام کرنے کا موقعہ ملے تو انہیں معلوم ہو کہ کیسی حالت ہے۔اگر انہیں وہ تحریریں جن میں میں ناظروں اور دوسرے کارکنوں کی خیر لیتا ہوں پڑھنے کا موقع ملے تو وہ تسلیم کر لیں کہ موجودہ کا رکن جس طرح کام کر رہے ہیں اس طرح وہ خود نہ کر سکیں الا ماشاء اللہ ہر ایک آدمی دفاتر کے کاغذات سے یہ بات معلوم کر سکتا ہے کہ تمدن کے لحاظ سے کوئی حقیر سے حقیر اور ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی ایسا نہیں ہوگا جس نے کوئی شکایت کی ہو اور میں نے اس کی شکایت کی طرف توجہ نہ کی ہو اور وہ حق پر ہو تو جس کے خلاف اس کی شکایت تھی اس سے سختی کے ساتھ باز پرس نہ کی ہو۔ایک طالب علم تھا جس کا ایک صیغہ کے ناظر سے کچھ مطالبہ تھا میں نے اسے جرمانہ کر کے دلا دیا یہ ہے ایک اور موقعہ پر فرمایا :- یکی اللہ تعالے کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں سلسلہ کے کام میں کسی کی رعایت کروں۔مجھے نہ نظارت کی پرواہ ہے نہ جماعت کی۔اگران کی اصلاح نہ ہوئی تو مجھے ان میں سے کسی کو نکالنے میں کوئی دریغ نہ ہوگا خواہ کوئی میرا بھائی ہو یا بیٹا یا کوئی اور رشتہ دار۔میں خدا تعالے سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس امر کی توفیق دے کہ میں سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے کسی کی کوئی پرواہ نہ کروں بات اصلاح احوال کے لئے پبلک محاسبہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔میرے نزدیک انتظامی نقائص کی بڑی وجہ عدم محاسبہ ہے جانت سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۷۵ ص سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ ر ۱۵ تا ۲۰ سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء ص ۱۲ -