سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 163
147 کی طرف سے کوئی محاسبہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہمارے اداروں کے کاموں میں غفلت اور سمستی چھائی ہوئی ہے بستی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور جب قوم میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو افسروں کے اندر شستی کا احساس ترقی کر جاتا ہے : اے پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ جب اسے جماعتی اداروں میں کوئی خوابی یا نقص نظر آئے یا کسی محکمہ کی غفلت اور سستی کا اسے علم۔ہو تو وہ پوری تفصیل کے ساتھ بلا خوف و خطر اس کی اطلاع دے پھر سیلک محاسبہ کے لئے صحیح راہ عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔میرے نزدیک ہر آدمی کا حق ہے کہ سلسلہ کے کاموں میں دخل دیے مگر کسی کا بھی یہ حق نہیں کہ بے موقع اور ایسے رنگ میں کہ بھائی بھائی کے مقابلہ میں اور قوم قوم کے مقابلہ میں کھڑی ہو جائے دخل دے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر وہ ایماندار ہے تو تو نادانی سے کام کرتا ہے ورنہ وہ جماعت کا دشمن ہے اور تباہی کی کوشش کرنے والا ہے یا سے علاوہ ازیں محاسبہ کے اصول کو زیادہ منظم شکل دینے کے لئے مجلس شوری کے مشورہ سے آپ نے وقتاً فوقتاً تحقیقاتی کمیشن مقرر کرنے کا سلسلہ بھی جاری فرمایا۔چنانچہ اپریل ۲۹۲ میں پہلی بار آپ نے ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر فرمایا اور پھر ۱۹۲۹ء میں اس کی تجدید فرمائی۔اس کمیشن کے پریزیڈنٹ چوہدری نعمت اللہ خان صاحب سب حج دہلی اور ممبر پیرا کبر علی صفات وکیل فیروز پور اور چوہدری غلام حسین صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس منتخب ہوئے۔حضو نے کمیشن کو ہدایت فرمائی۔کہ وہ سارے دفاتر کا معائنہ کرے اور مندرجہ ذیل امور کے متعلق تفصیلی رپورٹ مرتب کرے۔ا۔کمیشن تحقیقات کرے کہ ناظر اپنے مقررہ فرائض منظور شدہ رقم میں پوری طرح ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ص ۲ - ۲ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ ص ۱ تا ۲۰