سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 161
141 متعلق اور گذارہ میں اضافہ کی اشارہ درخواست کی تو حضور نے کمال شفقت سے اُسے بلا تردد قبول فرمایا۔یہاں تک کہ ایک ایک وقت میں ۵۰-۵۰ روپے ماہوار اضافہ منظور فرمایا " قاضی صاحب مرحوم نے اسی موضوع پر مزید فرمایا۔خاکسار نے تقسیم ملک کے وقت فسادات اور گشت وخون کے ایام میں سن رائزہ کا چارج چھوڑا تھا اس وقت مجھے وکالت کا کام کرتے ہوئے جو امرت سر میں کیا کرتا تھا تیرہ سال ہو چکے تھے جس طرح ہندوستان سے ہمارے احمدی احباب لٹے پٹے ہوئے آئے تھے اور پریشان حال تھے میری حالت بھی کچھ اسی قسم کی تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے میری اس پریشانی کے پیش نظر کمال شفقت اور بندہ نوازی سے ایک ہزار روپے کا چیک بھجوایا جسے اس وقت میں نے نعمت غیر مترقبہ سمجھا اور حضور کی ذرہ نوازی کا شکریہ ادا کیا عمار کے متعلق آپکے اصولی ارشادات اور طریق کار انتظامی محاسبہ کے ضمن میں آپ نے مختلف تقاریر میں جو موقف جماعت احمدیہ پر واضح فرمایا وہ جماعت کے لئے انشاء اللہ ہمیشہ مشعل راہ کا کام دیتا رہے گا۔اس یقین محکم کا اظہار کرتے ہوئے کہ دُنیا کی تقدیر اب احمدیت سے وابستہ ہو چکی ہے آپ نے فرمایا۔میں اپنے آپ کو اور آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو ان ذمہ داریوں کا احساس کرو، جو ہم پر عاید ہیں۔آئندہ سینکڑوں سالوں کے لئے دنیا کی قسمتوں کا فیصلہ ہم سے وابستہ ہے۔ہم آج جو فیصلے کریں گے وہ آئندہ سینکڑوں سالوں کے لئے دنیا کی قسمتوں کا فیصلہ کر دیں گے۔ان تغیرات کی باگ اللہ تعالے نے ہمارے ہاتھوں میں دی ہے اور یہ کام خدا تعالے کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالے سے دعا کرو۔اور اپنی یتوں کو درست کرو۔میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ جب تک نظارتیں میل ملاپ نہیں بڑھاتیں ، وہ اپنے فرائض کو اچھی طرح ادا نہیں کر سکتیں۔بار بارہ ملنا ، جماعتوں کی مشکلات معلوم کرنا۔سادگی سے ان کی تقاریب میں شرکت کرنا ان کے لئے بہت