سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 49
۴۹ ہے۔شاید کوئی کہے کہ خلافت کے بڑے جھگڑے سنتے رہے ہیں۔اور یہاں بھی کل اور پرسوں سے سُن رہے ہیں آخر یہ بات ختم بھی ہوگی یا نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو باتیں تم خلافت کے متعلق سن چکے ہو وہ تو تمھیں ان لوگوں نے سنائی ہیں جو رہرو کی طرح ایک واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔دیکھو! ایک بیمار کی حالت اس کا تیمار دار بھی بیان کرتا ہے مگر بیمار جو اپنی حالت بیان کرتا ہے وہ اور ہی ہوتی ہے۔اسی طرح دوسرے لوگوں نے اپنی سمجھے اور عقل کے مطابق تمھیں باتیں سُنائی ہیں مگر میں جو کچھ تمھیں منا سکا وہ آپ بیتی ہوگی جگ بیتی نہیں ہوگی۔دوسرے کے درد اور تکلیف کا خواہ کوئی کتنا ہی بیان کرے لیکن اس حالت کا وہ کہاں اندازہ لگا سکتا ہے جو مریض خود جانتا ہے اس لئے جو کچھ مجھے پر گذرا ہے اس کو میں ہی اچھی طرح سے بیان کر سکتا ہوں۔دیکھنے والوں کو تو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہو گی کہ کئی لاکھ کی میرات پر حکومت مل گئی۔مگر خدا را غور کرو کیا تمھاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے۔کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے رُوگردانی کی ہے کوئی فرق ہے کوئی بھی فرق نہیں۔لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا۔تمہاری محبت رکھنے والا۔تمہارے دُکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا۔تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔مگر اُن کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اسے فکر ہے درد ہے اور وہ