سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 50
نے اپنے مولیٰ کے حضور ترتیا رہتا ہے۔لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا۔ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عاید ہو گئی ہیں " خلیفہ اس کو کہتے ہیں جو ایک پہلے شخص کا کام کرے۔اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ رَه ہم نے تیرا وہ بوجھے جس نے تیری کمر توڑ دی تھی اتار دیا ہے۔تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اٹھا کر سلامت رہ سکے۔لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ہو مجھ کو ہلکا کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دی۔وہی اس کے بعد اس کے دین کے پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔" آپ کی طرز استدلال کا ایک نمونہ "ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو۔یا مامور ہو۔تم کون ہو ؟ بادشاہ ہو ؟ میں کہتا ہوں نہیں۔مامور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو ؟ خلیفہ کے لئے بادشاہ یا مامور ہونا شرط ہے۔یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبیر نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے له سورة العد نشراح - آیت ٣-٤