سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 48

る ملاقات کے آداب جماعت کے اُن احباب کو جو ملاقات کے وقت آپ کے گھٹنوں اور پاؤں کو اتھاتا ہے تھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :- بعض لوگ گھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں کرتے بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموں کا انجام ضرور شرک ہوتا ہے۔اس وقت ایسا کرنے والوں کی نیست شرک کی نہیں ہوتی مگر نتیجہ شرک ہی ہوتا ہے بخاری شریف میں آیا ہے۔ابن عباس کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں حضرت نوح کی قوم کے جن بتوں کے نام آئے ہیں، وہ دراصل مشترک اقوام کے بڑے بڑے آدمی تھے۔ان کے مرنے پر پھیلیوں نے ان کی یادگاریں قائم کرنی چاہیں تا کہ ان کو دیکھ کر ان میں جو صفات تھیں ان کی تحریک ہوتی رہے۔اس کے لئے انہوں نے سٹیچو مجسمہ بنا دیئے۔لیکن ان کے بعد آنے والے لوگوں نے جب دیکھا کہ ہمارے آبا وو اجداد ان مجسموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو انہوں نے ان کی اور عزت کرنی شروع کر دی۔پھر اسی طرح رفتہ رفتہ ان کی تعظیم بڑھتی گئی بالآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے آگے سجدے کئے جانے لگے اور ان کی اصل حالت کو بھلا کر انہیں خدا کا شریک بنا لیا گیا۔تو بعض باتیں ابتداء میں چھوٹی اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں مگر ان کا نتیجہ ایسا خطرناک نکلتا ہے کہ پھر اس کی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے۔میری اپنی حالت اور فطرت کا تو یہ حال ہے کہ میں ہاتھ چومنا بھی ناپسند کرتا ہوں مقام خلافت اب میں ایک بات بیان کرنا شروع کرتا ہوں اور وہ خلافت کے متعلق