سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 37

ہاتھوں میں اس کی پتوار ہو۔اور پھر بھی کشتی سلامت گذر جائے یہ کس کا کام ہو سکتا ہے صرف خدا کا۔خلیفہ اول ایک شان رکھتا تھا اور اس کے کاموں کو اس کی طرف منسوب کیا بھی جانتا تھا۔مگر میں کیا ہوں کہ کسی کو یہ خیال گذر بھی سکے کہ اس فتنہ کے دُور کرنے میں کچھ میرا بھی ہاتھ تھا۔یہ طاقت نمائی شرک کے تمام شائیوں سے پاک تھی۔اور انبیاء اولیاء کا محبوب بے نقاب اس وقت دنیا پر ظاہر ہوا تا کہ ان شرک کے ایام میں لوگوں کو بتا دے کہ ایک مٹی کے ڈلے اور لکڑی کے کندہ بھی کہیں وہ کام لے سکتا ہوں جو دنیا کے بادشاہ نہیں کر سکے " اُسے میرے رب ! تیرے حضور میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں اسے قبول فرما کہ بادشاہوں کے دروازوں پر سے گدا گر خالی ہاتھ نہیں لوٹا کرتے۔جس طرح تو نے اس جماعت کے کثیر حصہ کو مجتمع اور متحد کر دیا ہے قلیل کو بھی ہمارے ساتھ ملا دے۔میرے پیارے رب تو جانتا ہے کہ مجھے اپنی بڑائی کی خواہش نہیں مجھے حکومت کا شوق نہیں لیکن جماعت کا استحاد مجھے مطلوب ہے اور تفرقہ کو دیکھ کر میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔پس خدایا اپنا فضل کیجئے میرے زخمی دل پر مرہم کا فور لگائیے۔مجھے جو کچھ بھی حضور نے دیا امید سے بڑھ کر دیا۔مگر مولی مجھے اس معاملہ میں حرص سے معذور رکھئیے۔ابھی میری حرص کی آگ نہیں تجھی اور میرے دل میں تڑپ ہے کہ کسی طرح سب کی سب جماعت پھر ایک سلک میں پروٹی جائے۔اور ہم سب مل کر تیرے نام کو دنیا پر روشن کریں۔طاقتور شہنشاہ ! یہ تیرے لئے کچھ مشکل نہیں۔احمد کے نام کو دو ٹکڑے ہونے سے بچالے پیار یہ جماعت تیری پیاری جماعت ہے اور کون چاہتا ہے کہ اپنے پیاروں کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے یہ (مش)