سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 38

اللہ تعالے نے اس کام کو پورا کرنے کے لئے میرے دل میں ڈالا ہے کہ میں اب اسلام واحمد تیت کی اشاعت کے لئے خاص جد و جہد کروں۔اور میں نے فی الحال اندازہ لگایا ہے کہ اس کام کا ایک سال کا خرچ بارہ ہزار روپیہ ہو گا۔میں نے بہت دعاؤں کے بعد اس بات کا اعلان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ میری دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا اور خود اشاعت اسلام کے لئے سامان کر دے گا۔اور جو لوگ اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں گے ان پر خاص فضل فرمائیگا میرے دوستو ! بارہ ہزارہ روپیہ سالانہ کی رقم بظاہر بہت معلوم ہوتی ہے۔لیکن جس رب نے مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔وہ بڑے خزانہ والا ہے۔وہ خود آپ لوگوں کے دل میں الہام کرے گا اور آپ ہی اس کے لئے سابان کردے گا یا (من) د از اشتهار شکریہ اور اعلان ضروری مندر جی میم الفضل قادیان ۲ منی شاه اس وقت تک حضرت خلیفہ مسیح الثانی کا جماعت پر کیسا گہرا اثر پیدا ہو چکا تھا۔اور خلافت کے شیدائیوں کو آپ سے کتنی گہری محبت اور عقیدت کا تعلق تھا اس کا کچھ اندازہ اس اعلان کے اثرات سے لگایا جا سکتا ہے۔قادیان کی غریب جماعت نے ایک عجیب جوش اور خلوص کے ساتھ اپنے امام کی مالی قربانی کی اس تحریک پر لبیک کہا درس سے فارغ ہوتے ہی حضور کا یہ اعلان گھر گھر پہنچا دیا گیا اور دوسرے ہی روز ایک بڑے ہی پر جوش جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس میں اہل قادیان نے مسابقت کی ایک عجیب روح کے ساتھ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر وعدے لکھوائے اور اسی جلسہ میں تقریباً تین ہزارہ کے وعدے اور پانچ صد سے زیادہ نقد وصول ہو گئے۔جماعت کے آج کے حالات پر نظر کرنے والے شاید اس رقم کو معمولی سمجھیں لیکن ان دنوں جماعت کی غربت کا یہ حال تھا کہ یہ تین ہزار روپیہ بھی غیر معمولی اور دل گداز قربانیوں کے ذریعہ سے اکٹھا کیا گیا۔ایسے مخلصین بھی ان میں تھے جنہوں نے اپنی ساری زمین تبلیغ اسلام