سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 36

انجمن ترقی اسلام مجلس شورای س۱۹۱ء کی روئداد کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی تفصیلی رہنمائی کی روشنی میں جماعت احمدیہ نے تبلیغ اسلام کا جو وسیع منصوبہ بنایا اس پر خوش اسلوبی اور تیزی سے عمل درآمد کرنے کے لئے حضور نے ایک نئی انجمن انجمن ترقی اسلام کے نام سے قائم فرمائی۔آپ نے پوری احتیاط کے ساتھ یہ واضح فرما دیا ، کہ یہ انجمن پرانی انجمن کی متبادل نہیں ہے بلکہ خالصہ تبلیغ اسلام کے کام تک ہی اپنی دلچسپیاں مرکوز رکھے گی۔اور صدر انجین احمدیہ کے دیگر فرائض حسب سابق صدا آلمین احمدیہ ہی ادا کرتی رہے گی۔اس انجمن کے قیام کے تھوڑے دنوں کے بعد اپریل کے آخری ہفتہ میں آپ نے ایک مضمون شکریہ اور اعلان ضروری " کے عنوان کے تحت شائع فرمایا جس میں خلافت احمدیہ کے گرد پروانہ وار اکٹھے ہونے والے احباب جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جماعت کو قربانی کے ایک نئے میدان کی طرف بلایا اور پر زور اور پر درد تحریک فرمائی کہ انجمن ترقی اسلام کے مقاصد پورا کرنے کی خاطر جماعت احمدیہ ۱۲ ہزار روپیہ بطور چندہ ادا کرے۔۱۲ ہزارہ اس زمانہ میں چندوں کے معیار کے لحاظ سے اور روپے کی رائج قیمت کے اعتبار سے ایک بہت بڑی اپنیل شمار کی جاسکتی ہے۔یہ اعلان کا نیب کو دینے سے قبل ہی آپ نے درس قرآن کے وقت حاضر ا حباب کو پڑھ کر سنایا جس کے چند اقتباسات مشته نمونه از خروارے کے طور پر پیش ہیں :- میں اپنے مولا کے احسانات کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں۔اور اس کے احسانات کو کس زبان سے گنوں کہ میرا منہ اور میری زبان اس کام کو پورا نہیں کر سکتے میرے جسم کا ذرہ ذرہ بھی اگر گویا ہو تو اس کے تجر عطایا کے ایک قطرہ کا شکریہ ادا نہ ہوئے ایسے خطرناک متلاطم سمندر میں سے جماعت کا جہاز گزرے اور میرے جیسے ناتجربہ کار اور ناواقف اور کمزور ملاح کے