سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 333

PPF ہیں کہ ان پر منفنسی اُڑانے والے خود بے عقل اور احمق تھے اس بارے میں عیسائی مشنریوں نے نہایت عقلمندی سے کام لیا۔احمدیوں نے ابھی یورپ اور امریکہ میں قدم رکھا ہی تھا کہ تمام پادری ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے یہ ہے ضمناً یہاں یہ امر بھی ذکر کے لائق ہے کہ ایسی جماعت جو تن تنہا عیسائی دنیا پر بڑی جرات اور دلیری سے اور مومنانہ شان کے ساتھ حملہ آور ہے اور پادری اس کے مقابلہ کے لئے صف آرا ہو رہے ہیں ایسی جماعت پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ یہ عیسائی حکومتوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔حق پوششی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئیے۔یا بعضوں کے نزدیک شاید اس کی کوئی حد نہیں !! تحریک شدھی کے چھ سال بعد جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو ہندو ازم کے لئے ایک شدید خطرہ تصور کرتے ہوئے تماشہ کرشن نے یوں خطرے کا الارم بجایا۔مشکل یہ ہے کہ ہندوؤں کو اپنے ہی ہموطنوں کی ایک جماعت کی طرف سے خطرہ ہے اور وہ خطرہ اتنا عظیم ہے کہ اس کے نتیجہ کے طور پر آریہ جاتی صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے۔وہ خطرہ ہے تنظیم و تبلیغ کا مسلمانوں کی طرف سے یہ کام اس تیزی سے ہو رہا ہے کہ ہندوؤں کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔ان کی تعداد سال بہ سال کم ہو رہی ہے۔اگر اسے کسی طرح روکا نہ گیا تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب کہ آریہ دھرم کا کوئی بھی نام لیوا نہ رہے : غور فرمائیے ! چند ہی سال پہلے آریہ سماج کا کیا دعوی تھا اور کیا طنطنہ تھا مسلمانوں کو نہتا اور بے بس سمجھ کر وہ اپنی پوری قوت سے ان پر حملہ آور تھی۔اور اپنی طاقت کے نشہ میں بدمست ہو کر یہ اعلان کر رہی تھی :- کام شدھی کا کبھی بند نہ ہونے پائے ہندو ! تم میں ہے اگر جذبہ ایمان باقی بھاگ سے قوموں کو یہ وقت ملا کرتے ہیں رہ نہ جائے کوئی دنیا میں مسلماں باقی لیکن جونہی جماعت احمدیہ نے میدان جہاد میں قدم رکھا آریہ سماج نے اس کو اپنی ہستی ه اخبار تیج دہلی ۲۵ جولائی ۱۹۲۶ء سے پرتاپ لاہور ۲۱ اکتوبر ۶۱۹۲۹