سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 332

۔۔۔۔۔۔۔تصادم ہو گیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ دید الہامی ہے اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہے اور مکمل گیان ہے۔قادیانی کہنے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین میں اس کد و کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی یا مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں داخل نہیں ہوتا یہ ہے کار زاریش تھی کے اثرات اتنے گرے اور دور رس تھے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا کی عظیم قیادت کا رعب آریہ سماج کے راہنماؤں کے دلوں پر بیٹھ گیا۔شتر قعی کی تحریک چلی اور گزر گئی لیکن سالہا سال تک آریہ راہنماؤں کے دلوں میں اس تلخ اور ہولناک تجربے کی یادیں باقی رہیں جو کار زاریش تھی میں جماعت احمدیہ سے ٹکر لینے کے نتیجے میں انہیں حاصل ہوا تھا۔چنانچہ چار سال کے بعد اخبار تیج دہلی نے یہ اعتراف کیا کہ :۔" میرے خیال میں تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس موثر اور مسلسل کام کرنے والی جماعت، جماعت احمدیہ ہے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم سب سے زیادہ اس کی طرف سے غافل ہیں اور آج تک ہم نے اس خوفناک جماعت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے پھر اسی اخبار نے مزید لکھا:۔آج سے تمہیں چالیس سال پہلے پیچھے ہٹ جائیے جبکہ یہ جماعت اپنی ابتدائی حالت میں تھی۔اور دیکھئے اس زمانے میں ہندو اور مسلمان دونوں اس جماعت کو کس قدر حقیر اور بے حقیقت سمجھتے تھے ہندو تو ایک طرف رہے خود مسلمانوں نے ہمیشہ اس کا مذاق اُڑایا اور اس پر لعنت اور علامت کے تیر برسائے۔اس جماعت نے۔اپنے ابتدائی حالات میں جن جن کاموں کے کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا آج ان میں سے اکثر انجام کو پہنچ چکے ہیں۔اس زمانہ میں جب احمدیوں نے ان کاموں کی ابتداء کی تھی ، ان کو پاگل سمجھا جاتا تھا اور ان کی حماقت پر ہنسی اڑائی جاتی تھی۔مگر واقعات یہ کہ رہے ے ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکین قلت -۴۴ - اخبار تیج دہلی ۲۵ / جولائی انہ۔