سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 26
متفرق مصروفیات چندہ جات کا نظام مستحکم کرنیکے بارہ میں ایک اہم اقدام به ایام حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے لئے انتہائی مصروفیت کے ایام تھے۔دشمن کے بیرونی حملے ایک طرف اور کئی اپنے کہلانے والوں کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں دوسری طرف۔غیر مبائین نے تو احمد تیت کا مشن ہی یہ سمجھ رکھا تھا کہ کسی طرح مبائعین کی شاخ کو کیسر کاٹ ڈالا جائے۔اور (حضرت) مرزا محمود احمد کو ناکام و نامراد کر کے دکھا دیا جائے۔گویا نعوذ باللہ یہی احمدیت کے قیام اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے مشن کی غرض و غایت تھی۔ان کے اعتراضات کے جوابات دنیا ، جماعت کو ان کے زہریلے پروپیگنڈے سے مامون و محفوظ رکھنا۔نئی جماعتوں کے ایمان کی تقویت کے سامان پیدا کرنا۔جماعت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو از سر نو مجتمع کرنا۔خلافت کی اہمیت اور اصل منصب کو جماعت پر واضح کرنا۔کثرت سے آنے والے زائرین سے ملاقاتیں کرنا اور خطوط کا جواب دیا۔درس قرآن کریم اور پانچ وقت نماز کی امامت کے علاوہ رات کو تہجد میں گریہ وزاری کے ذریعہ اپنے رب سے مدد مانگنا۔جماعت کے پریشان حال افراد کی ڈھارس کے سامان پیدا کرنا اور ان کے لئے دُعائیں کرنا۔انجمن کے ایسے مہران کی پیدا کردہ مشکلات کا ازالہ کرنا جو بیعت خلافت میں داخل نہ تھے۔اس کے علاوہ جماعت کی ترقی کے لئے کئی عارضی اور ستنتقل اقدامات کرنا ، غیر از جماعت اور غیر مسلم زائرین کے سوالات اور اعتراضنا کے جواب زبانی اور تحریری طور پر دنیا۔غرضیکہ آپ کی زندگی ایک مصروف ترین انسان کی زندگی تھی۔اللہ ! اللہ پچیس برس کی عمر میں کتنے بوجھ تھے جو اسلام در کے غم میں آپ نے اپنے نوجوان کندھوں پر اُٹھا لئے تھے۔اس ایک دُکھ کے لئے کتنے دکھ تھے جو آپ کے جواں سال دل میں سما گئے۔کتنے فکر تھے جو ہجوم کر کے آئے اور آپ کے ذہن کی فضا پر چھا گئے۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں آپ کا اختیار بھی کیا تھا