سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 25
۲۵ شائع کئے جاتے ہیں۔یہ بھی وہی شیعہ والے قرطاس کے اعتراض کا نمونہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرطاس نہ لانے دیا۔اگر قرطاس آجاتا تو ضرور حضرت علی کی خلافت کا فیصلہ کر جاتے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ افسوس قرطاس لکھ کر بھی دے گئے پھر بھی کوئی نہیں مانتا۔بتاؤ شیعہ کون ہوا۔میں کہتا ہوں کہ اگر وہ قرطاس ہوتا تو کیا بتا۔وہی کچھ ہونا تھا جو ہو گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ لکھوایا اور شیعہ کو خلیفہ ثانی پر اعتراض کا موقع ملا۔یہاں مسیح موعود نے لکھکر دیا اور اب اس کے ذریعہ اس کے خلیفہ ثانی پر اعتراض کیا جاتا ہے " (ص۳)