سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 27
یہ علیم و خبیر خدا کا انتخاب تھا جس نے یہ گراں قدر امانت آپ کے سپرد کی اس عظیم ذمہاری کا لباس خدا نے ہی آپ کو پہنایا تھا۔پس ممکن نہ تھا کہ کوئی انسان آپ سے یہ لباس چھین سکے۔اور حق یہ ہے کہ آپ کا ہر سائنس آخر دم تک اس عہد کے نباہنے میں گزرا۔اور زندگی کی آخری رمق تک آپ اس پر قائم و دائم رہے۔یہ تو زندگی بھر نفس نفس کا ساتھ تھا جسے ہر طور نباہنا تھا۔دُکھ میں بھی اور آرام میں بھی۔صبح اور شام دن اور رات خلافت کی عظیم ذمہ داریوں کو سینے سے لگائے دل و جان سے عزیز تر کئے ہوئے زندگی کے آخری سانس تک آگے ہی آگے بڑھنا تھا۔آپ نے ایسے ہی کیا اور زندگی کی آخری رمق تک ایسا ہی کئے چلے گئے اور ہر صبح اور ہر شام نے گواہی دی کہ خدا کا انتخاب غلط نہ تھا۔آپ لَا يُكلف الله نَفْسًا إِلَّا دُعا کے اپنی فرمان کی ایک زندہ اور محبتم تفسیر بن گئے۔آپ کے روزانہ مشاغل کی تفصیل کو چھوڑ کر جو مختصر روئداد سلسلہ کے اخباروں میں چھپتی رہی اگر وہی پیش کی جائے تو بھی ابتدائی چند سالوں کے ذکر سے ہی ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔لہذا محض چند اہم اور دور رس نتائج کے حامل اقداماتنا اور بعض دنیا وی اہمیت کی تقاریر یا پھر بطور نمونہ ایک آدھ ملاقات کا واقعہ بیان کر کے ہم آپ کی خلافت کے پہلے سال کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔جماعتی انتظام کو بخوبی چلانے کے لئے سب سے پہلی ضرورت روپے کی تھی اس وقت حالت یہ تھی کہ سلسلہ کا تمام روپیہ اس انجمن کے قبضہ میں تھا جس میں ایک خاصی تعداد بیت نہ کرنے والوں کی تھی اور یہ اشخاص کسی وقت بھی مالی رکاؤ میں کھری کر سکتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ تو مناسب نہ سمجھا کہ روپیہ کسی اور نام پر جمع ہو مگر یہ شرط لگادی کہ تمام سبعیت کنندگان اپنا ہر قسم کا چندہ حضرت خلیفة امسیح کی معرفت بھجوائیں۔اس سے ایک طرف تو یہ خطرہ دُور ہو گیا کہ انجین کے مخالف ممبران اس روپیہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔دوسری طرف مبائعین اور غیر مبائعین کے چندوں میں امتیاز کی ایک عمدہ صورت پیدا ہو گئی۔اس صف ایک اور خطرہ بھی سامنے آیا۔کہ منکرین خلافت کے اخبار پیغام صلح نے جو ہمہ تن خلافت کی مخالفت کے لئے وقت تھا جماعت سے مختلف چندوں کی اپیلیں شروع کر دیں ضمن میں