سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 222
دوسرا حصہ بھی پورا ہو گیا۔اب دیکھو یہ ایک مرکب خواب تھی اور اس وقت آئی تھی جب حالات بالکل خلاف تھے۔کیونکہ کشتر صاب کی چٹھی آچکی تھی کہ میں اس ضلع میں اس وقت نہیں آسکتا اور کوئی انسانی دماغ اس بات کو تجویز نہیں کر سکتا تھا کہ فورا وہاں اُن کو کام پیدا ہو گا اور پھر وہ اس کی اطلاع دے کر امرتسر آنے سے روک دیں گے اور اُدھر ڈاکٹر صاحب بھی غیر متوقع طور پر واپس آجائیں گے۔اس خواب کے جس قدر جزو ہیں وہ نہ صرف یہ کہ ایسے وقت میں بنائے گئے ہیں کہ جب ان کی تائید میں کوئی سامان موجود نہ تھا۔بلکہ ایسے وقت میں تبائے گئے جبکہ اُن کے خلاف سامان موجود تھے اللہ ایک اور علامت پر بحث کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔چوتھی علامت یہ ہے کہ خواب کے ذریعہ نئے نئے علوم سکھلائے جاتے ہیں۔شیطان میں نئے علوم سکھلانے کی طاقت نہیں اور نہ ہی نفس کو یہ طاقت ہے کہ جو باتیں اسے معلوم ہی نہیں وہ بتا دے۔تو جیں خواب کے ذریعہ سے نئے علوم معلوم ہوں سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالے کی طرف سے ہے۔نئے علوم کی تازہ مثال حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا واقعہ ہے۔آپ کو اللہ تعالے نے بتایا کہ آپ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں۔آپ کو خدا تعالے کی طرف سے علم دیا جائے گا۔آپ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی۔لیکن جب تقریر کرنے کے لئے آئے اور تقریر شروع کی تو مجھے خوب یاد ہے۔گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ میں اوّل سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا حالانکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔تو ایسی خواب جس میں زائد علم دیا جائے وہ ضرور رحمانی ہوتی ہے اور میں نے خود اس کا کئی بار تجربہ کیا ہے کہ رو یار میں اللہ تعالنے کی طرف سے نیا علم دیا جاتا ہے چنانچہ جب خواجہ صاحب نے ہندوستان میں ایسی طرز پر تبلیغ شروع ت حقيقة الروياء ص۶۲۶