سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 221
۲۲۱ کی طرف سے دکھائی جانے والی خواہیں انسانی دماغ کی دسترس سے بالا ہوتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں " اسی سال ایک معاملہ کے متعلق جو گورنمنٹ کے ساتھ تھا ایسا واقعہ ہوا کہ کمشنر صاحب کی چٹھی میرے نام آئی کہ فلاں امر کے متعلق میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔لیکن مجھے آجکل اتنا کام ہے کہ میں گورداسپور نہیں آسکتا اور قادیان سے قریب تر جو میرا مقام ہے وہ امرتسر ہے یہاں اگر آپ آسکیں تو لکھوں۔اس چیٹی میں معذرت بھی کی گئی کہ اگر مجھے فرصت ہوتی تو میں گورداسپور ہی آتا لیکن مجبور ہوں۔اس میٹھی کے آنے سے تین دن بعد مجھے رؤیار ہوئی کہ میں کمشنر صاحب کو ملنے کے لئے گورداسپور جا رہا ہوں اور یوں وغیرہ کا انتظام ڈاکٹر رشید الدین صاحب کر رہے ہیں۔لیکن جس دن میں نے رویا، دیکھی اس دن ڈاکٹر صاحب قادیان میں موجود نہیں تھے بلکہ علی گڑھ گئے ہوئے تھے اور اسی رات کی صبح کو کمشنر صاحب کی میٹھی آگئی۔جو بلا کسی ہماری تحریک کے تھی کہ مجھے کچھ کام گورداسپور کا نکل آیا ہے اگر آپ کو امر تسر آنے میں تکلیف ہو تو میں فلاں تاریخ گورداسپور آرہا ہوں آپ وہاں آجائیں۔اس میٹھی سے ایک حصہ تو پورا ہو گیا مگہ دوسرا حصہ باقی تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی تھی۔ڈاکٹر صاحب ایک مہینہ کے ارادہ سے علی گڑھ اپنی چھوٹی بیٹی کی لات پر آپریشن کرانے کے لئے گئے تھے اور ابھی اُن کے آنے کی کوئی امید نہ تھی۔مگر دوسرے دن ہمیں گورداس پور جانا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹر صاحب آگئے اور بیان کیا کہ جس ڈاکٹر نے آپریشن کرنا تھا اس نے ابھی ٹانگ کاٹنے سے انکار کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایسا کرنا سرجری کی شکست ہے۔میں پہلے یونہی علاج کروں گا۔اس لئے میں نے سر دست ٹھہر نا مناسب نہ سمجھا اور واپس آگیا ہوں (گو چند ماہ بعد اس ڈاکٹر کو مجبورا ٹانگ کاٹنی پڑی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلی تحریک محض اللہ تعالے کی طرف سے تھی، غرض اس طرح